پوپ لیو کی پھیپھڑوں کی سرجری کامیاب، صحت یابی میں ایک ہفتہ لگنے کا امکان

مصنوعی ذہانت انسانی شناخت، باہمی تعلقات اور سماجی توازن کے لیے سنجیدہ خطرات پیدا کر سکتی ہے، پوپ لیو چہارم

 کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم کی پھیپھڑوں کی سرجری کامیابی سے مکمل ہوگئی ہے۔ ویٹیکن کے مطابق، آپریشن طے شدہ منصوبے کے مطابق کیا گیا۔ اس کے بعد پوپ لیو کو روم کے جیمیلی اسپتال میں اپنے کمرے میں منتقل کردیا گیا۔

71 سالہ پوپ کے پھیپھڑے سے ایک چھوٹی رسولی نکالنے کے لیے آپریشن کیا گیا۔ ویٹیکن نے بتایا کہ سرجری کے دوران کوئی پیچیدگی پیش نہیں آئی۔ ڈاکٹروں کے اندازے کے مطابق، ان کی صحت یابی میں تقریباً ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

ویٹیکن کی تازہ طبی معلومات کے مطابق، نکالی گئی رسولی کے معائنے میں پھیپھڑوں کے سرطان کی تصدیق ہوئی ہے۔ اسے لنگ ایڈینوکارسینوما کہا جاتا ہے۔ یہ سرطان کی ایک قسم ہے۔

طبی معائنے کے دوران رسولی کا ابتدائی مرحلے میں پتا چلا تھا۔ آپریشن میں پھیپھڑے کے دائیں حصے کا نچلا لوب نکالا گیا۔ مزید علاج، بشمول کیموتھراپی یا ریڈیوتھراپی، سے متعلق فیصلہ طبی جائزے کے بعد کیا جائے گا۔

پوپ لیو کو روم کے جیمیلی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ویٹیکن نے ان کی تمام عوامی مصروفیات 20 اکتوبر تک منسوخ کردی ہیں۔سرجری کے بعد پوپ اسپتال میں زیرِ نگرانی رہیں گے۔ ویٹیکن نے ان کی صحت یابی کے لیے مزید طبی معلومات جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

پوپ لیو کی صحت سے متعلق یہ پیش رفت کیتھولک دنیا میں توجہ کا مرکز ہے۔ ان کی آئندہ مصروفیات کا انحصار صحت یابی اور ڈاکٹروں کے مشورے پر ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے