بھارتی سپریم کورٹ نے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی متنازع شقوں پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے 21 میڈیا اداروں کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔
چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں بینچ نے شہریوں کی نجی زندگی اور پریس کی آزادی پر غور کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دونوں حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔
درخواست میں 21 میڈیا اداروں کی نمائندگی ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن کر رہی ہے۔ ایسوسی ایشن نے قانون کی بعض شقوں کو چیلنج کیا ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ نیا پرائیویسی قانون میڈیا کی آزادی کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، یہ قانون میڈیا پر پیشگی سنسرشپ کا سبب بن سکتا ہے۔
درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں بعض نیوز رومز بند ہو سکتے ہیں۔ میڈیا اداروں نے متنازع شقوں کو تحقیقاتی صحافت کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا ہے۔
درخواست دائر کرنے والے اداروں میں مختلف بڑے میڈیا گروپس شامل ہیں۔ ان میں مکیش امبانی اور گوتم اڈانی کی ملکیت والے میڈیا ادارے بھی شامل ہیں۔
این ڈی ٹی وی اور سی این این نیوز 18 بھی درخواست گزاروں میں شامل ہیں۔ میڈیا ادارے قانون کی ان شقوں پر اعتراض کر رہے ہیں جنہیں وہ صحافتی کام کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔
خبر کے مطابق، قانون کی متنازع شقوں پر عمل درآمد مئی 2027 سے شروع ہونا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو میڈیا اداروں کے خدشات کا تحریری جواب دینے کی ہدایت کی ہے۔
اس مرحلے پر عدالت کا حکم حکومت سے جواب طلب کرنے تک محدود ہے۔ فراہم کردہ خبر میں درخواست پر حتمی فیصلے کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔


