Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

حوثیوں کا سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر اور حکمرانی تسلیم کرنے کا مطالبہ

نومبر 5, 2026

دنیائے فٹبال کے اسٹار کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو نے پرتگال کی قومی ٹیم سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

نومبر 5, 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ 7 فروری کوہوگا۔خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات روکنے کا فیصلہ

نومبر 5, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
جمعرات, نومبر 5
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم
Home»کالم»آپ کسی تعارف کے محتاج نہیں
کالم

آپ کسی تعارف کے محتاج نہیں

EditorBy Editorنومبر 5, 2026Updated:نومبر 5, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

عطاء الحق قاسمی

انٹرویوز میں ایک تعارفی جملہ آپ نے بھی سنا ہوگا کہ” آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں” اور اس دعوے کے بعد ان صاحب یا صاحبہ کا لمبا چوڑا تعارف کرایا جاتا ہے۔ یہ تعارف سن کر دو خیال ذہن میں آتے ہیں، ایک یہ کہ آج کی شخصیت مکمل طور پر تعارف کی محتاج تھی کیونکہ اس لمبے چوڑے تعارف میں بھی ان کا تعارف نہیں ہوا اور اس حوالے سے دوسرا خیال یہ ذہن میں آتا ہے کہ ان صاحب یا صاحبہ سے ملاقات کرا کے ہمارا اور ان کا ٹائم کیوں ضائع کیا گیا ؟دراصل ٹی وی اور سوشل میڈیا چینلز کی دن بدن بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ان چینلز کو "گیسٹ” ملنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ جو لوگ واقعی کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے ان کی اکثریت ان چینلز نے بھگتا دی ہے اور یوں اب کچرا آنا شروع ہو گیا ہے۔ گزشتہ روز میں نے اسلام پورہ ( سابق کرشن نگر ) کی کرکٹ ٹیم کے کپتان کا انٹریو ایک چینل پر دیکھا۔ موصوف اس عزم کا ارادہ کر رہے تھے کہ وہ اس کھیل کے فروغ کیلئے پورے ملک میں مہم چلائیں گے اور لوگوں کو بتائیں گے کہ غریب عوام کی ذہنی پریشانیوں کو دور کرنے کا واحد ذریعہ کرکٹ کا فروغ ہے جسکے نتیجے میں کچھ وقت کے لیے انھیں اپنی پریشانیوں سے نجات مل سکے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ غریب عوام کو صرف کرکٹ سے نہیں بہلائیں گے بلکہ ان کے دکھوں کے علاج کیلئے ایک ہسپتال بھی بنائیں گے جہاں سے ان کا علاج مفت ہوگا ۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کا سیاست میں حصہ لینے کا تو کوئی ارادہ نہیں ؟ بولے ہر گز نہیں ، ابھی تک وہ عوام کے اصرار کو نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں، تاہم اگر وہ باز نہ آئے تو پھر ان کی خواہش کے احترام میں مجھے سیاست میں آنا ہی پڑے گا ۔ایک انٹرویو میں نے ایک تاجر ایسوسی ایشن کی صدارت کے امید وار کا بھی سنا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر انہیں کا میابی ملی تو وہ ملک میں فوری طور پر اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لا ئیں گے۔ امریکہ کے سفارتخانے کے باہر بھر پور مظاہرہ کریں گے اور دھرنا بھی دیں گے۔ یہ دھرنا اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت امریکہ کے سفیر کو ملک بدر نہیں کرتی ۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اپنے بازار میں ان گاہکوں کی سہولت کیلئے واش روم نہیں بنائیں گے جو خریداری کیلئے آتے ہیں؟ اس پر وہ بولے آپ مجھے ڈی گریڈ کر رہے ہیں۔ میں ملک میں اسلامی نظام کے نفاد کی بات کر رہا ہوں، آپ درمیان میں واش روم لے کر آگئے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے ایک لمبا چوڑا لیکچر دیا اور کہا ” جب بھی کوئی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کرتا ہے تو آپ جیسے لوگ پر ہجوم علاقوں میں واش رومز کی تعمیر جیسے petty مسائل کا ذکر لے بیٹھتے ہیں ؟“
جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا کہ اہم شخصیات کی کمیابی کے باعث اب مجھ ایسوں کی لاٹری بھی نکل آئی ہے۔ چنانچہ میرے تعارف میں اینکر نے ” آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں” کے روایتی جملے کے بعد میرا جو تعارف کرایا وہ اتنا بھونڈا تھا کہ مجھ سے رہا نہ گیا۔ چنانچہ میں نے اس لائیو پروگرام میں بتایا کہ میں چھبیس شعری مجموعوں کا خالق ہوں جو پبلشرز کی ناقدری کی وجہ سے ابھی تک شائع نہیں ہو سکے۔ اس کے علاوہ مجلس ادب لودھراں نے مجھے اپنے خصوصی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ میں نے ادبی سرگرمیوں کی سر پرستی کی غرض سے ان سے آمد ورفت کے اخراجات اور اعزاز یہ کی بات بھی نہیں کی۔ نہ انھوں نے یہ پیشکش کی تھی اور یوں میں مارو مار لودھراں پہنچ گیا جہاں میری بہت آؤ بھگت ہوئی ۔ مجھے ایک پناہ گاہ میں ٹھہرایا گیا جو اس علاقے کے ایک مخیر صاحب نے ثواب کی نیت سے تعمیر کرائی تھی ۔ مجھے بتلایا گیا تھا کہ آپ کے ساتھ شام منانے کیلئے آپ کو مدعو کیا جا رہا ہے مگر وہاں تو صرف مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ تاہم یہاں میری عزت افزائی کیلئے مجھے سب سے پہلے پڑھایا گیا منتظمین کا کہنا تھا اس کا مقصد یہ ہے کہ باقی شعراء جو اپنا کلام سنا کر رفو چکر ہو جاتے ہیں وہ آپ کے کلام سے محروم نہ رہ جائیں۔ الحمد للہ بہت داد ملی مجلس کے منتظمین نے مجھے 2025 ء کے بہترین شاعر کا ایوارڈ بھی دیا۔ ممکن ہے باقی سب شرکاء کو بھی دیا ہو، تاہم میں یہ پورے یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ میرے اس فی البدیہہ تعارف پر اینکر بہت شرمندہ ہوا۔ انٹرویو کے اختتام پر اس نے اپنی اس بے خبری کی معافی بھی مجھ سے مانگی ۔ اس حوالے سے مجھے مجاہد اردو ڈاکٹر فضل الرحمن لاہوری یاد آ گئے ۔ کاش وہ آج ہمارے درمیان ہوتے ، مجھے یقین ہے کہ وہ چینل پر چھائے ہوئے دکھائی دیتے ۔ وہ تمام انتخابی معرکوں میں صدر پاکستان کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوتے ، تاہم اس کیلئے الیکشن کمیشن کے روبرو کبھی پیش نہیں ہوئے کہ مستقبل کے صدر پاکستان کے پروٹوکول کے مطابق ایسا کرنا وہ اس عہدے کی تو ہین سمجھتے تھے۔ وہ الیکشن سے پہلے اپنی کابینہ کا اعلان کر دیتے تھے جس میں بطور وزیر اطلاعات مجھے اور منو بھائی کو وزیر داخلہ نامزد کرتے تھے۔ افسوس ان کی اور میری یہ خواہش پوری ہونے کا کبھی موقع ہی نہیں آیا۔اور آخر میں حیدر آباد دکن کی انٹر نیشنل ہیومر کا نفرنس اور ” آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں“ کے حوالے سے ایک ” دلخراش واقعہ ! اس کا نفرنس میں پاکستان سے سید ضمیر جعفری اور مجھے بطور مندوب مدعو کیا گیا تھا۔ کانفرنس میں ایک ہی وقت میں بہت سی زبانوں کے الگ الگ اجلاس جاری تھے۔ منتظمین ضمیر جعفری اور مجھے پنجابی زبان کے سیشن میں لے گئے جس کی خطابت ایک سردار جی کر رہے تھے یہ سردار جی دنیا بھر کے نظامت کاروں سے زیادہ ذہین ثابت ہوئے ۔ انھوں نے ہمارا تعارف ان لفظوں میں کرایا "سجنو تے مترو اب میں آپ کو پاکستان سے آئے ان ادیبوں سے ملاتا ہوں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں اور چونکہ وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ اس لیے ان کے تعارف کی بھی کوئی ضرورت نہیں ، وہ جب اپنا کلام سنائیں گے تو آپ کو خود ہی لگ پتہ جائے گا!”آخر میں ذکر کتاب کا ،احباب کی طرف سے گاہے گاہےکتب کے تحائف موصول ہوتے رہتے ہیں گزشتہ دنوں ڈاکٹر طارق سلیم کی کتاب "سیرت معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم”ملی ۔سیرت کے حوالےسے یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔اس میں ہر باب کے ساتھ ایسے اسباق بھی بھی شامل کیے گئے ہیں جو قاری کو اپنی عملی زندگی سے جوڑتے ہیں ۔یہ کتاب محض مطالعہ نہیں بلکہ عمل کی دعوت بھی دیتی ہے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    پاکستان میں غربت کی بڑھتی شرح

    نومبر 4, 2026

    آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم کا ملکی تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار

    نومبر 3, 2026

    بیرونِ ملک ہزاروں پاکستانی قیدی

    نومبر 3, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    آپ کسی تعارف کے محتاج نہیں

    نومبر 5, 2026

    پاکستان میں غربت کی بڑھتی شرح

    نومبر 4, 2026

    آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم کا ملکی تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار

    نومبر 3, 2026

    بیرونِ ملک ہزاروں پاکستانی قیدی

    نومبر 3, 2026

    امن، ٹرمپ اور مکہ اتحاد

    نومبر 3, 2026

    حرم پاک کے کبوتر (مکہ کے یہ کبوتر اس شہر کی دیرینہ روایات کی ایک زندہ علامت ہیں)

    نومبر 2, 2026
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram
    All Right Reserved © Vision Point PK 2026 . Managed by Vision Point

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.