مرزا اشتیاق بیگ
پاکستان میں غربت کی بڑھتی شرح کے حوالے سے عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ ہر پاکستانی کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025-26ءمیں پاکستان میں غربت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 29 فیصد ہوچکی ہے جو 2019ءمیں 22فیصد تھی۔ اس طرح گزشتہ چندبرسوں میں پاکستان میں غربت کی شرح میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے اور لاکھوں خاندان بنیادی ضروریات زندگی پورا کرنے کی سکت کھوتے جارہے ہیں۔ یہ اعدادوشمار محض معاشی رپورٹ کا حصہ نہیں بلکہ ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتے ہیں جہاں ایک طرف دولت اور وسائل چند ہاتھوں تک محدود ہے تو دوسری طرف پاکستان کا عام شہری دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور رہائش جیسے بنیادی مسائل سے نبردآزما ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں گزشتہ چند سال کے دوران مہنگائی میں مسلسل اضافہ، آمدنی کی غیر مساوی تقسیم، قوت خرید میں کمی، معاشی عدم استحکام اور روزگار کے محدود مواقع شامل ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ غربت کا یہ دائرہ صرف دیہی علاقوں یا کم آمدنی والے طبقات تک محدود نہیں بلکہ شہری علاقوں میں رہنے والا متوسط اور غریب طبقہ بھی شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے، ماضی میں وہ خاندان جو اپنی محدود آمدنی میں باعزت زندگی گزار لیتے تھے، آج بجلی، گیس، پٹرول، راشن، بچوں کی اسکول فیس، مکان کا کرایہ اور علاج معالجے کے اخراجات پورے کرنے کیلئے اپنی جمع پونجی خرچ کرنے یا قرض لینے پر مجبور ہیں۔
پاکستان کی گزشتہ دو دہائیوں کی معاشی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غربت میں کمی کیلئے مختلف ادوار میں حکومت کی جانب سے کئی دعوے اور منصوبے سامنے آئے لیکن پائیدار معاشی ترقی اور عوام کی حقیقی خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ 2018-19 ءمیں غربت کی شرح 22 فیصد تھی لیکن کورونا وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، روپے کی قدر میں مسلسل کمی، سیاسی و معاشی عدم استحکام و بے یقینی، توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ہوشربا مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ان عوامل نے نہ صرف غریب طبقے کو مزید غربت میں دھکیل دیا بلکہ متوسط طبقے کو بھی معاشی طور پر کمزور کردیا۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال 2025 ءتک 7 کروڑ 26 لاکھ سے زائد افراد سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہے تھے جن کی یومیہ آمدنی 3 ڈالر سے بھی کم ہے، اس طرح پاکستان میں ہر چوتھا شخص سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ پاکستان میں غربت کے پھیلائو کی بنیادی وجہ آمدنی اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم بھی ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ملکی معیشت کتنی ترقی کررہی ہے یا قومی آمدنی میں کتنا اضافہ ہورہا ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات سے فائدہ کس طبقے کو پہنچ رہا ہے۔
اگر قومی دولت میں اضافہ ہو لیکن اس کا بڑا حصہ مخصوص کاروباری گروہوں، بااثر طبقات اور اشرافیہ تک محدود رہے تو اس ترقی کا عام شہری کی زندگی پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑتا۔ معاشی ترقی اسی وقت حقیقی ترقی کہلائے گی جب اس کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کا ٹیکس نظام بھی معاشی ناہمواری میں اضافے کا اہم سبب بن رہا ہے۔ ایک طرف تنخواہ دار طبقہ اپنی آمدنی سے براہ راست ٹیکس، روزمرہ استعمال کی اشیاء، بجلی، گیس اور پٹرول پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کررہا ہے تو دوسری طرف بااثر اور اشرافیہ طبقہ حکومت سے ٹیکس مراعات، استثنیٰ اور مختلف مراعات حاصل کررہا ہے جسکے باعث پاکستان میں ٹیکسوں کا بوجھ یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوپاتا۔
پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ اور مستقبل کی ترقی کے ضامن ہیں لیکن روزگار کے محدود مواقع، معیاری تعلیم کی کمی اور فنی تربیت کے فقدان نے نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنادیا ہے اور ہمارے نوجوان اعلیٰ تعلیم کے حصول کے باوجود ملازمتوں کیلئے دھکے کھاتے نظر آرہے ہیں۔ اسی طرح بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں ہر سال 35لاکھ سے زائد نوجوانوں کو روزگار کی ضرورت ہوتی ہے لیکن پاکستان کی معیشت اتنی ملازمتیں پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ پاکستان آج ایک اہم معاشی دوراہے پر کھڑا ہے، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم بااثر اور اشرافیہ طبقے کے مفادات، مراعات اور غیر منصفانہ معاشی ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے غربت کی اس دلدل میں مزید دھنستے رہیں گے یا اپنی ترجیحات تبدیل کرکے ایک منصفانہ، پیداواری اور عوام دوست معاشی نظام کی بنیاد رکھیں گے۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ غربت صرف غریب کی ناکامی نہیں بلکہ ریاست کے معاشی و سماجی نظام کی کمزوری کی علامت بھی ہے۔ پاکستان کو ایسی معاشی ترقی کی ضرورت ہے جسکا فائدہ صرف قومی خزانے کے اعدادوشمار میں نہیں بلکہ عام آدمی کے چولہے، بچوں کی تعلیم، مریض کے علاج، مزدور کی اجرت اور نوجوان کے روزگار میں بھی نظر آئے کیونکہ جس ملک میں معاشی ترقی کے دعوئوں کے باوجود غربت بڑھتی چلی جائے، وہاں معاشی ترقی محض خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ کسی بھی ملک کی اصل کامیابی اس کے امیروں کی بڑھتی دولت سے نہیں بلکہ اس ملک کے غریب شہریوں کی خوشحالی سے پہچانی جاتی ہے۔

