نومیزہ علی
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور بقا کی ضامن ہوتی ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی نظام ہی باشعور، مہذب اور ذمہ دار شہری پیدا کرتا ہے۔ پاکستان میں مختلف تعلیمی ادارے اس مقصد کے لیے کوشاں ہیں، جن میں آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم (APSACS) کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ یہ ادارہ ملکی تعلیم کے فروغ، معیار ی تعلیم اور کردار سازی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم (APSACS) کا قیام اکتوبر 2005میں بنیادی طور پر پاک فوج کے زیرِ انتظام ہوا، جس کا مقصد فوجی اور سول دونوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ نظام پورے ملک میں پھیل گیا یوں ترقی کی منازل تیزی سے طے کرتے ہوئے یہ پاکستان کے کامیاب ترین نظامِ ہائے تعلیم میں شمار ہوگیا۔
پاکستان کے تقریباً ہر علاقے میں آرمی پبلک سکول / کالج موجود ہے ان اداروں کی خاص بات یہ ہے کہ پورے تعلیمی نظام میں یکسانیت پائی جاتی ہے مثلاً پورے ملک میں ایک وقت میں ایک ہی نصاب ، عنوان اور سرگرمی کی تدریس ہو تی ہے اس کے علاوہ تمام اداروں میں ایک وقت میں چھٹیاں ،ایک ہی وقت میں امتحانات اور ایک ہی پیپر ہوتا ہے۔
قومی نصاب کسی بھی ملک کے تعلیمی نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف طلبہ کو علمی اور فنی مہارتیں فراہم کرتا ہے بلکہ ان کی اخلاقی، سماجی اور قومی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایپسیکس کے نصاب میں بھی اپنے ملک سے محبت، قومی یکجہتی اور ذمہ داری کا احساس ، آزادی کی جدوجہد، قومی زبان، ثقافتی ورثے اور قومی خدمات انجام دینے والی شخصیات کے بارے میں مثبت اور مستند معلومات شامل ہیں۔ یہ نصاب طلبہ کو سکھاتا ہے کہ کس طرح قانون کی پاسداری، شہری ذمہ داریوں اور قومی مفاد کو ترجیح دے کرہم اپنے ملک و قوم کی خدمت کر سکتے ہیں۔ ہمارا نصاب صرف تعلیم کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مضبوط، باشعور اور محبِ وطن قوم کی تشکیل کا اہم وسیلہ بھی ہے جو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق مؤثر انداز میں مرتب کیا گیا ہے۔ ایپسیکس (APSACS) کی تمام نصابی و غیر نصابی تدریس نہ صرف اپنے قومی نصاب سے مکمل مطابقت رکھتی ہیں بلکہ نصاب کے عملی اطلاق کے لیے مختلف تدریسی سرگرمیاں اور حکمتِ عملیاں بھی وضع کی جاتی ہیں۔
اس ادارے کے دیگر نمایاں پہلوؤں میں مناسب اور خوش گوار تعلیمی ماحول ،نظم و ضبط، اعلیٰ تعلیمی معیار، قابل اساتذہ ، جدید تدریسی طریقے، مہارتوں اور سرگرمیوں پر مبنی تدریس ، بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ نظام ِ تعلیم جس میں طلبہ کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
کامیاب انسانی زندگی کی کنجی نظم و ضبط میں مضمر ہے۔ پاک فوج کا بھی سب سے نمایاں اور قابلِ ستائش پہلو اس کا نظم و ضبط ہے۔ یہی نظم و ضبط اسے اقوامِ عالم کی افواج میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔ یہی خصوصیت پاک فوج کی کامیابیوں، پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی اعتماد کی بنیاد ہے۔ نظم و ضبط نہ صرف فوج کی طاقت ہے بلکہ اقوام ِ عالم کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے۔پاک فوج کے دیگر اداروں کی طرح آرمی پبلک اسکولوں میں بھی نظم و ضبط کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہاں طلبہ کو وقت کی پابندی، ذمہ داری کا احساس ، صفائی، احترامِ اساتذہ اور قوانین کی پاسداری کی عملی تربیت دی جاتی ہے۔ اسکول کا منظم تعلیمی ماحول طلبہ میں خود اعتمادی، قائدانہ صلاحیتوں اور مثبت طرزِ عمل کو فروغ دیتا ہے۔ صبح کی اسمبلی سے لے کر نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں تک ہر شعبے میں نظم و ضبط نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی خصوصیت طلبہ کی علمی و اخلاقی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مزید برآں آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم (APSACS) طلبہ کی ذہنی اور جذباتی صحت ( Emotional Health )پر بھی توجہ دیتا ہے۔ کیریئر کونسلر اور ایموشنل ہیلتھ کوآرڈینیٹر اس طرح کے مسائل سے متعلق مسائل کے حل میں ہر دم کوشاں رہتے ہیں۔ طلبہ کی بروقت رہنمائی اور والدین کے ساتھ مسلسل رابطہ طلبہ کو مثبت اور محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
آرمی پبلک سکولوں کا شمار چوں کہ پاکستان کے صفِ اول کے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ ان اداروں میں اعلیٰ تعلیمی معیار کو یقینی بنانے کے لیے قومی نصاب، مؤثر تدریسی منصوبہ بندی، جدید تدریسی طریقے ، مؤثر سرگرمیاں ، تعلم کی جانچ کی حکمتِ عملیاں ، تربیتِ اساتذہ کی ورکشاپیں ، مؤثر امتحانی نظام اور مسلسل تعلیمی نگرانی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ جس سے تعلیم و تدریس کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہے کہ کھیل صحت مند زندگی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ کھیل سے مراد ایسی سرگرمیاں ہیں جو ہماری جسمانی اور ذہنی نشوونما میں مدد دیتی ہیں۔ کھیل صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ جسم کو مضبوط، چست اور تندرست بھی بناتے ہیں جیسا کہ مشہور کہاوت ہے: "A sound mind lives in a sound body”ایک صحت مند جسم میں ہی صحت مند دماغ ہوتا ہے۔
ان اداروں میں کھیل کود کے لیے وسیع و عریض کھیل کے میدان ، کھیلوں کا سامان اور تربیت یافتہ جسمانی تربیت کے اساتذہ جیسی سہولتیں موجود ہیں۔ شیڈول کے مطابق کھیلوں کے باقاعدگی سے مقابلے کروائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے طلبہ کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ ٹیم ورک، نظم و ضبط، برداشت، اعتماد اور قائدانہ صلاحیتوں کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم کے طلبہ قومی ، بین الاقوامی اور فیڈرل بورڈ کے مقابلوں میں حصہ لے کر متعدد انعامات جیت کر ادارے اور ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔
یہ سکول میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سائنسی تعلیم کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ طلبہ کی علمی، فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لیے جدید لیبارٹری، کمپیوٹر ، لائبریری اور ڈیجیٹل وسائل سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تنقیدی سوچ، مسائل حل کرنے کی قوت ، قائدانہ صلاحیتیں اور کردار سازی پر بھی زور دیا جاتا ہے تاکہ طلبہ نہ صرف امتحانات میں کامیابی حاصل کریں بلکہ عملی زندگی میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکیں۔
آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم میں اخلاقی اقدار مثلاً وقت کی پابندی ، صفائی، خود آگاہی، محنت، نرمی / شائستگی، خودی /عزتِ نفس، خود اعتمادی ، خود احتسابی ، منصوبہ بندی، تنظیم وترتیب، فیصلہ سازی ، ذرائع ابلاغ کا درست استعمال ، برداشت، سچائی،ایمان داری ،دیانت داری، صبر، میانہ روی، درگزر، سخاوت، ذاتی و معاشرتی حقوق، ذمہ دار شہری، ماحولیاتی ذمہ داری اور حُب الوطنی جیسی اقدار کو نہ صرف فروغ دیا جاتا ہے بلکہ مختلف نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کی سیرت و کردار کا لازمی حصہ بھی بنایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان اداروں کے طلبہ مختلف امتحانات، مقابلہ جاتی سرگرمیوں اور اعلیٰ تعلیم کے میدان میں قابلِ قدر کامیابیاں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بہترین انسان، با عمل مسلمان اور مُحبِ وطن پاکستانی بھی ثابت ہوتے ہیں۔
امتحانات طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور سیکھنے کی سطح کو جانچنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ آرمی پبلک سکولوں کا امتحانی نظام نہایت منظم، شفاف اور معیاری ہوتا ہے۔ اس نظام کا مقصد صرف طلبہ کے حاصل کردہ نمبروں کا تعین کرنا نہیں بلکہ ان کی علمی استعداد، فہم، تخلیقی صلاحیتوں اور مجموعی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لینا بھی ہوتا ہے۔ ان امتحانات کا مقصد یہ ہے کہ سیکھنے کے عمل میں رہ جانے والی خامیوں کی بروقت نشان دہی کر کے انہیں دور کیا جائے اور تدریسی عمل کو مزید بہتر بنایا جائے۔
ایپسیکس کے طلبہ فیڈرل بورڈ کے امتحانات میں گزشتہ کئی سالوں سے لگا تار نمایاں پوزیشنز لے کر ادارے کا نام روشن کر رہے ہیں جو کہ اس سسٹم کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
ہم نصابی سرگرمیاں تعلیمی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، جس سے طلبہ زیادہ خوش مزاج اور متوازن شخصیت کے حامل بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تعلیمی ادارے نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں کو بھی برابر اہمیت دیتے ہیں جیسا کہ آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم میں ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے منظم منصوبہ بندی کی جاتی ہے جس کے لیے پورے سال کا ایک کیلینڈر بنایا جاتا ہے جس میں ہم نصابی سرگرمیاں پوری تفصیل کے ساتھ درج ہوتی ہیں۔ ان سرگرمیوں کا وقتاً فووقتاً جماعت میں اور جماعت سے باہر بھی مؤثر انعقاد کیا جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہنے میں ہم حق بجانب ہیں کہ ایپسیکس سسٹم (APSACS) نے ملکی تعلیم میں نظم و ضبط ، اقدار، معیاری تعلیم اور حُب الوطنی کو فروغ دے کر ایک ایسا مثالی کردار ادا کیا ہے جس کی تقلید اگر دیگر تعلیمی ادارے بھی کریں تو پاکستان تعلیمی ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے نئی تایخ رقم کر سکتا ہے۔
