عرفان اطہر قاضی
دنیا کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب چند گھنٹوں کی سفارتکاری برسوں کی دشمنی کا رُخ بدل سکتی ہے اور بعض اوقات ایک میز پر بیٹھنے کا فیصلہ جنگ کے میدان میں بہنے والے ہزاروں قطروں سے زیادہ قیمتی ثابت ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی کوششوں سے 26اکتوبر 2026ء کو تہران میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کی ملاقات اسی تناظر میں غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی آمد، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی اور ترکیہ کے اعلیٰ انٹیلی جنس حکام کی شرکت نے خطے کی سیاست میں ایک نئی سفارتی سرگرمی کوجنم دیا ہے۔ یہ محض چند حکام کی ملاقات نہیں بلکہ ایک ایسے خطے میں امن کی تلاش ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی، اسرائیل کی عسکری پالیسیوں، فلسطین و لبنان کی صورت حال، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور عرب دنیا کے تحفظات نے پورے مشرق وسطیٰ کو بے یقینی سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس رابطے کا مقصد علاقائی سلامتی اور کشیدگی میں کمی کے لئے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانا ہے، جبکہ پاکستان اور قطر کی جانب سے سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششیں بھی اسی وسیع تر تناظر کا حصہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم دنیا اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر امن کا ایسا راستہ تلاش کر سکتی ہے جو صرف وقتی جنگ بندی تک محدود نہ ہو بلکہ خطے کیلئے مستقل استحکام کی بنیاد بنے؟ اس سوال کا جواب تہران کی میز پر ہونیوالی گفتگو، اسکے نتائج اور متعلقہ ممالک کی عملی سنجیدگی میں پوشیدہ ہے اور دفاعی معاہدہ اس سفارتی پیش رفت کا اہم پس منظر ہے۔ مکہ معاہدے کے شرکاءکا ایران کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ علاقائی سلامتی کے معاملات میں اختلاف رکھنے والے ممالک کے درمیان رابطے کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہئے۔ ایسے حالات میں سعودی وزیر دفاع کی تہران آمد کو ایک اہم سفارتی رابطے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس ملاقات کو مستقل مفاہمت کا اعلان سمجھنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب قابلِ عمل اقدامات سامنے آئیں گے، ایک دوسرے کے تحفظات کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے گی اور ایسے معاملات پر اتفاق پیدا ہوگا جن کے باعث پورا خطہ جنگ کے خطرے سے دوچار ہے۔ پاکستان اس معاملے میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔کامیاب سفارت کاری کی بنیاد یہی ہے کہ ریاستیں جذباتی نعروں کے بجائے اپنے قومی مفادات، بین الاقوامی اصولوں اور خطے کے مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلے کریں۔ ایران کے معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن تہران کے تحفظات کو سننے اور باہمی مفاہمت کے لئے تیار ہے یا وہ صرف ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جس میں ایران کو یک طرفہ طور پر اپنی شرائط تسلیم کرنا پڑیں؟ دوسری جانب ایران کو بھی یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ علاقائی ممالک کے تحفظات کو نظرانداز کرکے اور ہر اختلاف کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش سے دیرپا اعتماد پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا راستہ دوبارہ کھلتا ہے تو اس کے اثرات صرف پورے مشرق وسطیٰ، عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی معیشت پر مرتب ہوں گے۔ مسلم دنیا کے لئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج باہمی اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات کی نشان دہی ہے۔کیوں کہ صرف بیانات، مذمتی قراردادوں اور ہنگامی اجلاسوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مسلم ممالک کو سفارتی سطح پر مربوط حکمت عملی، انسانی امداد، بین الاقوامی قانون کے نفاذ اور شہری آبادی کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہی اصول تمام متعلقہ فریقوں پر بھی یکساں لاگو ہونے چاہئیں۔ مسلم دنیا کا المیہ یہ ہے کہ اس کے پاس آبادی، قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، دفاعی صلاحیت اور معاشی امکانات کی کمی نہیں لیکن اختلافات، باہمی بداعتمادی اور الگ الگ ترجیحات اسے ایک مشترکہ مو ثر آواز بننے سے روکتی رہی ہیں۔ کہیں فرقہ وارانہ اختلافات سیاسی مفادات کے لئے استعمال ہوتے ہیں، کہیں علاقائی قیادت کی خواہش تعاون کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے اور کہیں عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو اس انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے کہ مسلم ممالک ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑے ہوتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تمام مسلم ممالک ہر معاملے پر ایک جیسا مو قف اختیار کریں،اصل سوال یہ ہے کہ کیا اختلافات کے باوجود جنگ سے بچنے، تجارت جاری رکھنے، انسانی جانیں محفوظ بنانے اور علاقائی سلامتی کے لئے مشترکہ اصول طے کئے جا سکتے ہیں؟ تہران کی بیٹھک اسی سوال کا عملی امتحان ہے۔ مکہ معاہدہ اگر محض تین ممالک کے دفاعی تعاون تک محدود رہتا ہے تو اس کی اہمیت ایک دائرے میں رہے گی لیکن اگر اس کے شرکاءاسے وسیع تر علاقائی امن کے لئے رابطے کا ذریعہ بناتے ہیں تو اس کے اثرات کہیں زیادہ دور رس ہو سکتے ہیں اور مشترکہ سلامتی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ تہران اعلیٰ سطح ملاقات کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اگر علاقائی ممالک اپنے مسائل پر براہ راست بات کرنے لگیں تو بیرونی طاقتوں پر انحصار کم اور اپنے خطے کے فیصلے خود کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔دوسری طرف امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایران سمیت کسی بھی ملک کو یک طرفہ دبائو کے ذریعے مستقل امن پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور ایران کو اپنے علاقائی کردار کے بارے میں دوسرے ممالک کے خدشات سننے ہونگے، سعودی عرب اور ترکیہ کو اپنے دفاعی تعاون کے ساتھ خطے کے وسیع تر امن کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا اور پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں میں غیر جانب دارانہ رابطے، اعتماد سازی اور قابل عمل نتائج پر توجہ دینی ہوگی۔ ٹرمپ ہوں یا مشرق وسطیٰ کے دیگر حکمران، تاریخ میں ان کی حیثیت کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہوگا کہ انہوں نے کتنی طاقت دکھائی بلکہ اس سے بھی ہوگا کہ انہوں نے کتنی جانیں بچائیں، کتنے تنازعات ختم کئے اور آنے والی نسلوں کے لئے کیسا خطہ چھوڑا؟ تہران میں ہونے والی ملاقات اگر مستقل مکالمے، جنگ بندی اور علاقائی سلامتی کے کسی مو ثر نظام کی طرف پیش رفت کرتی ہے تو یہ پاکستان سمیت تمام شریک ممالک کی ایک اہم کامیابی ہوگی۔ امن کی طرف اٹھایا گیا ایک سنجیدہ قدم شاید فوری طور پر تمام اختلافات ختم نہ کر سکے، لیکن یہی قدم مستقبل کی بڑی تباہی کو روکنے کا آغاز ضرور بن سکتا ہے۔

