Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

پاکستان نے طویل فاصلے تک دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے فاذ میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا

نومبر 3, 2026

ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز 2026: پاکستان شاہینز کے 15 رکنی سکواڈ کا اعلان

نومبر 3, 2026

پاکستان کا عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کردار پر اظہارِ تشویش، ڈیجیٹل نگرانی اور سنسرشپ روکنے کا مطالبہ

نومبر 3, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
منگل, نومبر 3
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم
Home»کالم»بیرونِ ملک ہزاروں پاکستانی قیدی
کالم

بیرونِ ملک ہزاروں پاکستانی قیدی

EditorBy Editorنومبر 3, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

شاہد نعیم (جدہ)

گزشتہ روز بیرونِ ملک قید پاکستانیوں کے اعداد و شمار سامنے آنا محض ایک سرکاری رپورٹ کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے قومی نظام، معاشرتی رویوں، معاشی پالیسیوں اور بیرونِ ملک روزگار کے حصول کے طریقۂ کار پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کردہ تحریری جواب کے مطابق، دنیا کے 72 ممالک میں مجموعی طور پر 21ہزار 647پاکستانی قید ہیں۔ ان میں 13ہزار 78زیرِ سماعت مقدمات کے ملزمان، جبکہ 8ہزار 569سزا یافتہ قیدی ہیں۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب میں 10 ہزار 745پاکستانی قید ہیں، جن میں 5ہزار 445 جدہ اور 5ہزار 300ریاض میں ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد 5 ہزار 297بتائی گئی ہے۔یہ اعداد و شمار کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ ہمارے شہری بیرونِ ملک کن حالات میں جرائم کی دنیا تک پہنچتے ہیں؟ کتنے افراد دانستہ جرم کرتے ہیں، کتنے جعل سازوں کے ہاتھوں دھوکا کھاتے ہیں اور کتنے ایسے ہیں جو بہتر مستقبل کی تلاش میں غلط راستوں کا انتخاب کر بیٹھتے ہیں؟پاکستان میں بے روزگاری، کم آمدنی، مہنگائی اور روزگار کے محدود مواقع نے لاکھوں خاندانوں کو معاشی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مناسب ملازمت سے محروم رہتے ہیں، جبکہ ہنرمند افراد بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق آمدنی حاصل نہیں کر پاتے۔ایسے حالات میں بیرونِ ملک ملازمت ایک امید بن جاتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں بہتر تنخواہ اور محفوظ مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے نوجوان اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، زمینیں فروخت کرتے ہیں اور بعض اوقات قرض لیکر بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب روزگار کی یہ خواہش قانونی اور محفوظ راستے کے بجائے غیرقانونی ذرائع سے پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کچھ افراد جعلی ویزوں، فرضی ملازمتوں اور غیرمستند ایجنٹوں کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔ بعض کو ان کے اصل کام سے ہٹ کر دوسری سرگرمیوں میں دھکیل دیا جاتا ہے، جبکہ کچھ لوگ جان بوجھ کر غیرقانونی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔تاہم ایک اہم حقیقت سمجھنا ضروری ہے، بے روزگاری جرم کا جواز نہیں، لیکن بے روزگاری اور معاشی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ہر قیدی کو بے گناہ قرار دینا درست نہیں، لیکن ہر گرفتار شخص کو مکمل حقائق جانے بغیر مجرم سمجھ لینا بھی انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ ریکروٹنگ ایجنسیاں ، روزگار فراہم کرنے والی یا خواب بیچنے والی؟ بیرونِ ملک ملازمتوں کے حصول میں ریکروٹنگ ایجنسیوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ قانونی اور دیانت دار ایجنسیاں پاکستانی افرادی قوت کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں اہم خدمات انجام دیتی ہیں، لیکن غیرقانونی ایجنٹوں اور بدعنوان عناصر کی سرگرمیاں اس پورے شعبے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔بعض افراد کو بھاری رقم کے عوض بیرونِ ملک ملازمت، اچھے عہدے اور پرکشش تنخواہ کی ضمانت دی جاتی ہے، مگر وہاں پہنچنے پر صورتِ حال مختلف نکلتی ہے۔ کہیں ویزا جعلی ہوتا ہے، کہیں ملازمت کا وجود نہیں ہوتا اور کہیں معاہدے میں درج شرائط پر عمل نہیں کیا جاتا۔ کچھ معاملات میں افراد کو ایسے کاموں میں ملوث کر دیا جاتا ہے جن کے قانونی نتائج سے وہ پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ حکومتی ادارے ایسی ایجنسیوں کی نگرانی کیسے کرتے ہیں؟

ان کے لائسنسوں کی جانچ کتنی مؤثر ہے؟ بیرونِ ملک ملازمت کے نام پر شہریوں سے وصول کی جانے والی رقوم کا حساب کون رکھتا ہے؟ اور دھوکا دہی ثابت ہونے پر متاثرہ خاندانوں کو انصاف کتنی جلدی ملتا ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ریکروٹنگ ایجنسیوں کا مؤثر آڈٹ کیا جائے، ان کے لائسنسوں اور بیرونِ ملک آجر اداروں کی تصدیق یقینی بنائی جائے اور غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ان بااثر عناصر کا کردار بھی ہے جو جعلی ویزوں، انسانی اسمگلنگ، مالی دھوکا دہی اور غیرقانونی بھرتیوں کے ذریعے بھاری منافع کماتے ہیں۔اکثر ایسے نیٹ ورکس میں چھوٹے ایجنٹ یا درمیانی افراد سامنے آتے ہیں، لیکن اصل مالی فائدہ اٹھانے والے عناصر تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔اگر کسی شخص کو جعلی دستاویزات فراہم کی گئیں، کسی سے بیرونِ ملک ملازمت کے نام پر لاکھوں روپے وصول کیے گئے یا کسی منظم نیٹ ورک نے لوگوں کو غیرقانونی سرگرمیوں کی طرف دھکیلا تو صرف آخری کڑی کو گرفتار کرنا کافی نہیں۔ضروری ہے کہ تحقیقات کا دائرہ ان افراد تک پہنچے جو اس کاروبار کی مالی معاونت کرتے ہیں، جعلی دستاویزات تیار کرواتے ہیں، غیرقانونی ویزوں کا انتظام کرتے ہیں یا اپنے اثرورسوخ کے ذریعے قانون سے بچ نکلتے ہیں۔تاہم کسی فرد یا ادارے کو ٹھوس شواہد کے بغیر ذمہ دار قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ احتساب کا عمل ثبوت، شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائی پر مبنی ہونا چاہیے۔قانون کی اصل بالادستی تب ثابت ہوتی ہے جب چھوٹے مجرم کے ساتھ بڑے سہولت کار کا بھی احتساب ہو۔

  • حکومت کی ذمہ داری محض اعداد و شمار نہیں، عملی اقدامات ہونے چاہئیں،حکومت کی ذمہ داری صرف بیرونِ ملک قید پاکستانیوں کی تعداد قومی اسمبلی میں پیش کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل ضرورت ان وجوہات کی نشاندہی اور تدارک ہے جو شہریوں کو غیرقانونی راستوں، استحصال اور جرائم کی طرف لے جاتی ہیں۔اس سلسلے میں چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔بیرونِ ملک ملازمت کے خواہش مند ہر شہری کے لیے ایسا قابلِ اعتماد نظام ہونا چاہیے جہاں وہ ویزا، ملازمت، آجر، معاہدے اور ریکروٹنگ ایجنسی کی قانونی حیثیت کی تصدیق کر سکے۔حکومت کو تصدیق شدہ ملازمتوں کا ایک مرکزی ڈیجیٹل پورٹل قائم کرنا چاہیے، جس میں ملازمت کی تفصیلات، تنخواہ، متعلقہ کمپنی، معاہدے کی شرائط اور قانونی بھرتی کرنیوالے اداروں کا ریکارڈ دستیاب ہو۔جعلی ویزے، جعلی ملازمتیں اور بیرونِ ملک روزگار کے نام پر مالی فراڈ کرنیوالوں کیخلاف تیز رفتار قانونی کارروائی کی جائے۔ متاثرین کی شکایات کے اندراج، تحقیقات اور رقم کی واپسی کیلئے واضح طریقۂ کار وضع کیا جائے۔نوجوانوں کو بیرونِ ملک بھیجنے سے پہلے ان کی پیشہ ورانہ تربیت، زبان، متعلقہ ملک کے قوانین اور ملازمت کی شرائط سے آگاہی کو یقینی بنایا جائے۔بیرونِ ملک ملازمتوں کیلئے بھی اسی نظام کا الگ شعبہ ہونا چاہیے، جو قانونی بھرتی، دستاویزات کی تصدیق، تربیت اور شکایات کے ازالے کی سہولت فراہم کرے۔یقیناً بے روزگاری کا مکمل خاتمہ کسی ایک منصوبے سے ممکن نہیں، لیکن مسلسل پالیسی، شفاف عمل درآمد اور جواب دہی کے ذریعے اس میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ذمہ داری مشترکہ، مگر جواب دہی لازمی۔ دنیا کے 72ممالک میں 21 ہزار 647 پاکستانیوں کی قید کے اعداد و شمار ہمیں ایک سنجیدہ قومی مسئلے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔اس معاملے میں ہر فریق کا کردار اس کے عمل اور اختیار کے مطابق طے ہونا چاہیے۔ جرم کرنے والے کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، دھوکا دینے والے ایجنٹ کو جواب دہ ہونا چاہیے، منظم غیرقانونی نیٹ ورکس کے سہولت کاروں کا احتساب ہونا چاہیے اور حکومت کو اپنی پالیسیوں اور انتظامی کمزوریوں کا جائزہ لینا چاہئے۔ اسی طرح معاشرے کو بھی غیرحقیقی توقعات، شارٹ کٹ اور غیرقانونی ذرائع سے کامیابی حاصل کرنے کی سوچ کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم کا ملکی تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار

    نومبر 3, 2026

    امن، ٹرمپ اور مکہ اتحاد

    نومبر 3, 2026

    حرم پاک کے کبوتر (مکہ کے یہ کبوتر اس شہر کی دیرینہ روایات کی ایک زندہ علامت ہیں)

    نومبر 2, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم کا ملکی تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار

    نومبر 3, 2026

    بیرونِ ملک ہزاروں پاکستانی قیدی

    نومبر 3, 2026

    امن، ٹرمپ اور مکہ اتحاد

    نومبر 3, 2026

    حرم پاک کے کبوتر (مکہ کے یہ کبوتر اس شہر کی دیرینہ روایات کی ایک زندہ علامت ہیں)

    نومبر 2, 2026

    بھٹو کی نتھ فورس

    اکتوبر 30, 2026

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram
    All Right Reserved © Vision Point PK 2026 . Managed by Vision Point

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.