Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

صحافی اور اینکرربیعہ احسن کی لاش گھرسے برآمد،گردن کے نیچے گولی ماری گئی۔پولیس نے شوہر کو حراست میں لے لیا

نومبر 8, 2026

ایک ہفتے کے لیے بھارتی مقبول شو "کون بنے گاکروڑپتی”کی شوٹنگ روک دی گئی

نومبر 8, 2026

انڈر 19 ایشیا کپ میں پاکستان نے بھارت کو 3 وکٹ سے شکست دے دی

نومبر 8, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
اتوار, نومبر 8
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم
Home»پاکستان»پاکستان کا نقشہ تبدیل کرکے صوبوں کی تعداد 12 کردی جائے گی۔پنجاب کو 4 صوبوں، خیبر پختونخوا کو 3، بلوچستان کو 3 اور سندھ کو 2 صوبوں میں تقسیم کیاجائے گا
پاکستان

پاکستان کا نقشہ تبدیل کرکے صوبوں کی تعداد 12 کردی جائے گی۔پنجاب کو 4 صوبوں، خیبر پختونخوا کو 3، بلوچستان کو 3 اور سندھ کو 2 صوبوں میں تقسیم کیاجائے گا

EditorBy Editorنومبر 8, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

پاکستان کے انتظامی نقشے میں تبدیلی کرکے 12 صوبے بنانے کی تجویز زیر غور ہے جس کے تحت ممکنہ 28 ویں آئینی ترمیم سے قبل ملک گیر ریفرنڈم کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس تجویز کے پس منظر میں بنیادی مؤقف یہ ہے کہ اضافی صوبوں کا قیام مختلف علاقوں کے درمیان سیاسی مقابلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے ایسی انتظامی اصلاحات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جن کا مقصد شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا، پسماندہ علاقوں تک ترقی کے مواقع پہنچانا اور ریاست کو عوام کے لیے زیادہ قابلِ رسائی اور جواب دہ بنانا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ تجویز طرزِ حکمرانی بہتر بنانے، انتظامی کارکردگی مضبوط کرنے اور ملک بھر میں ترقیاتی عمل کی زیادہ منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔

اس تجویز سے متعلق سوچ سے آگاہ ذرائع کے مطابق ابتدائی غور و خوض میں 2027 کے پہلے نصف حصے کے دوران مجوزہ آئینی ترمیم کی جانب پیش رفت کا تصور پیش کیا گیا ہے، جبکہ اس سلسلے میں ابتدائی اقدامات پہلی سہ ماہی میں کیے جانے کا امکان ہے۔

مجوزہ انتظامی ڈھانچے کے تحت پنجاب کو 4 صوبوں، خیبر پختونخوا کو 3، بلوچستان کو 3 اور سندھ کو 2 صوبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس سے ملک میں صوبوں کی مجموعی تعداد 12 ہوجائے گی۔

تاہم یہ تجویز ابھی غور کے مرحلے میں ہے اور مجوزہ حدود، انتظامی ڈھانچوں یا اتنی بڑی تنظیمِ نو پر عمل درآمد کے لیے درکار آئینی طریقۂ کار کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

مجوزہ طریقہ کار کا ایک اہم پہلو آئینی ترمیم کا عمل شروع کرنے سے پہلے ملک گیر ریفرنڈم کا انعقاد ہے۔ اس کا مقصد اضافی صوبے بنانے کے وسیع تر سوال پر عوامی رائے حاصل کرنا ہے، تاکہ انتظامی تنظیمِ نو کے لیے عوامی حمایت حاصل کی جاسکے اور اس معاملے کو صرف سیاسی مذاکرات اور جماعتی مفادات تک محدود رہنے سے بچایا جاسکے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ مجوزہ اقدام کا مقصد کسی مخصوص صوبے کو نشانہ بنانا یا کسی موجودہ صوبائی اکائی کی سیاسی یا انتظامی حیثیت کمزور کرنا نہیں ہے۔ اس کے بجائے اس تجویز کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی، انتظامی مسائل اور غیر مساوی ترقی کے تقاضے طرزِ حکمرانی کے لیے ایک نئے طریقۂ کار کے متقاضی ہیں۔

اس تجویز کے پس منظر میں موجود سوچ کے مطابق بنیادی مقصد حکومت کو عام شہریوں کے زیادہ قریب لانا، عوامی خدمات تک رسائی بہتر بنانا، انتظامیہ کو زیادہ جواب دہ اور عوامی ضروریات کے مطابق بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں اور وسائل سے ملک کے مختلف علاقوں کے لوگوں کو فائدہ پہنچے۔

اس تجویز کے حامیوں کا خیال ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں حکومتوں کے لیے مقامی ترجیحات کی نشاندہی، سرکاری شعبے کی کارکردگی کی نگرانی، عوامی خدمات کی فراہمی میں موجود خامیوں کو دور کرنے اور شہریوں کے روزمرہ مسائل کا زیادہ مؤثر انداز میں جواب دینے کو آسان بنا سکتی ہیں۔

ریفرنڈم کو اس بحث کو سیاسی محاذ آرائی سے آگے لے جانے کا ایک ممکنہ ذریعہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔ نئے صوبوں کا قیام تاریخی طور پر شدید سیاسی ردعمل کا باعث بنتا رہا ہے، کیونکہ سیاسی جماعتیں اور علاقائی فریق اکثر اس معاملے کو انتخابی مفادات، صوبائی شناخت اور سیاسی طاقت کی تقسیم کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

اس مجوزہ طریقۂ کار کی حمایت کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ سیاسی مصلحتوں کے بجائے عوامی رائے کو ترجیح دی جانی چاہیے اور اس معاملے کا بنیادی طور پر انتظامی کارکردگی اور عوامی فلاح کے نقطۂ نظر سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ملک گیر مشاورت سے تنظیمِ نو کے اصول پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے، تاہم جغرافیائی حدود کے تعین، وسائل کی تقسیم، آئینی تحفظات اور انتظامی ذمہ داریوں کی منتقلی کے انتظامات کے لیے وسیع سیاسی اور پارلیمانی غور و خوض بدستور ضروری ہوگا۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    صحافی اور اینکرربیعہ احسن کی لاش گھرسے برآمد،گردن کے نیچے گولی ماری گئی۔پولیس نے شوہر کو حراست میں لے لیا

    نومبر 8, 2026

    ایک ہفتے کے لیے بھارتی مقبول شو "کون بنے گاکروڑپتی”کی شوٹنگ روک دی گئی

    نومبر 8, 2026

    انڈر 19 ایشیا کپ میں پاکستان نے بھارت کو 3 وکٹ سے شکست دے دی

    نومبر 8, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    بجلی کے بلوں کا اضافی بوجھ

    نومبر 8, 2026

    کردار،اخلاق اورذمہ داریاں:مرداورعورت، یکساں طورپر جواب دہ ہیں

    نومبر 7, 2026

    کیا نیتن یاہو کا دھڑن تختہ ہوگا؟

    نومبر 6, 2026

    آپ کسی تعارف کے محتاج نہیں

    نومبر 5, 2026

    پاکستان میں غربت کی بڑھتی شرح

    نومبر 4, 2026

    آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم کا ملکی تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار

    نومبر 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram
    All Right Reserved © Vision Point PK 2026 . Managed by Vision Point

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.