پاکستانی حکومت نے ملک میں نئی آٹو پالیسی کا اعلان کیا ہے جس میں سستی گاڑیوں کی فراہمی اور الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ سٹیشنز کے قیام میں موجود مالی مشکلات کو دور کرنے کے لیے فنڈز فراہم کرے گی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نئی پالیسی کی تیاری کے حوالے سے کافی کام کیا گیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس میں خصوصی دلچسپی لی۔ کابینہ سے پالیسی کی منظوری کا عمل سنیچر کے روز سے شروع ہو گیا ہے۔
پاکستان میں اس نئی آٹو پالیسی کے اعلان نے اس شعبے میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب ملک میں چینی کمپنیوں کی الیکٹرک گاڑیوں کے یکے بعد دیگرے ماڈل متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ اب ان کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کی کمی ممکن ہو سکتی ہے۔
اس کی ایک مثال جیکو جے فائیو کی ہے جسے حال ہی میں متعارف کرایا گیا ہے اور سوشل میڈیا پر صارفین کی ایک بڑی تعداد اس پر اپنی رائے دیتی نظر آ رہی ہے۔ 49 کلو واٹ آور کی بیٹری والی اس الیکٹرک کار کی قیمت 59 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔ ستمبر کے دوران چیری کیو متعارف کرائی گئی تھی جس میں 42.7 کلو واٹ آور کی بیٹری نصب ہے اور اس کی قیمت ساڑھے 55 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔
اگر حکومت کی نئی آٹو پالیسی پر عملدرآمد شروع ہو گیا تو ان سمیت ایسی کئی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔ مگر یاد رہے کہ ان تجاویز پر عملدرآمد عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری سے مشروط ہے۔
ادھر پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز کے چیئرمین عبدالرحمن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پہلی بار گاڑی خریدنے والوں یا کم آمدنی والے صارفین کے لیے کوئی خصوصی مراعات نہیں دی گئیں۔ اس کے برعکس ‘قرض کی حد اور واپسی کی مدت میں اضافہ صرف درآمد شدہ نیو انرجی وہیکلز (این ای وی) کے لیے کیا گیا ہے۔’
انھوں نے کہا سوزوکی آلٹو، سوئفٹ، ہنڈا سٹی اور ٹویوٹا یارس جیسی گاڑیوں کے خریداروں کے لیے ‘قرض کی سہولت یا ٹیکس میں کوئی رعایت نہیں دی گئی۔’
ایچ ایم شہزاد بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کم آمدنی والے افراد کے لیے اس پالیسی میں ایسی مراعات نہیں کہ وہ گاڑیاں خرید سکیں۔ ‘ایسے افراد موٹر سائیکل ہی افورڈ کر سکتے ہیں۔’
تو پھر اس پالیسی سے کون سی کمپنیاں سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتی ہیں اور سب سے زیادہ نقصان کن کمپنیوں کو ہو سکتا ہے؟
دو دہائیوں سے پاکستان کی مختلف آٹو کمپنیوں سے منسلک رہنے والے شبیر الدین کہتے ہیں کہ اس پالیسی سے سب سے زیادہ فائدہ چینی آٹو کمپنیوں کو ہوگا جن میں بی وائے ڈی، چیری اور جی اے سی شامل ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اچھے معیار کی چھوٹی چینی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں ’سوزوکی آلٹو کے آس پاس آ سکتی ہیں۔‘ وہ مثال دیتے ہیں کہ سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی بدولت چیری کیو کی قیمت 55 لاکھ سے کم ہو کر 42 لاکھ روپے ہو سکتی ہے۔ جبکہ جی اے سی کی آئیون یو ٹی کی قیمت 64 لاکھ سے کم ہو کر 50 لاکھ روپے پر آ جائے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ اس پالیسی سے سب سے زیادہ نقصان تینوں جاپانی کمپنیوں سوزوکی، ہنڈا اور ٹویوٹا کو ہوگا۔ ان کے بقول ایک ماہ میں آلٹو، سوئفٹ، کلٹس، فرونکس، یارس اور سٹی کی مجموعی فروخت قریب 13 ہزار یونٹس کی ہوتی ہے۔ مگر اب چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں ان کا مارکیٹ شیئر لے سکتی ہیں۔
آٹو مارکیٹ کے ماہر نبیل علی کہتے ہیں کہ یہ پاکستان میں نئے رجحان کی طرف اشارہ ہے کہ نئی گاڑیاں اپنی قدر کھو دیں گی اور ایک اثاثہ تصور نہیں ہوں گی جیسے کہ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کورین کمپنیوں کی گاڑیوں پر پہلے ہی لاکھوں روپے کے ڈسکاؤنٹس چل رہے ہیں جبکہ سازگار کی لگژری کار ٹینک کی قیمت چھ ماہ میں ہی تین سے چار ملین تک گِر چکی ہے۔(بشکریہ:بی بی سی اردو)

