Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

صحافی اور اینکرربیعہ احسن کی لاش گھرسے برآمد،گردن کے نیچے گولی ماری گئی۔پولیس نے شوہر کو حراست میں لے لیا

نومبر 8, 2026

ایک ہفتے کے لیے بھارتی مقبول شو "کون بنے گاکروڑپتی”کی شوٹنگ روک دی گئی

نومبر 8, 2026

انڈر 19 ایشیا کپ میں پاکستان نے بھارت کو 3 وکٹ سے شکست دے دی

نومبر 8, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
اتوار, نومبر 8
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم
Home»پاکستان»پاکستان میں نئی آٹو پالیسی کے اعلان نےہلچل مچادی،کون سی گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی؟
پاکستان

پاکستان میں نئی آٹو پالیسی کے اعلان نےہلچل مچادی،کون سی گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی؟

EditorBy Editorنومبر 8, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

پاکستانی حکومت نے ملک میں نئی آٹو پالیسی کا اعلان کیا ہے جس میں سستی گاڑیوں کی فراہمی اور الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ سٹیشنز کے قیام میں موجود مالی مشکلات کو دور کرنے کے لیے فنڈز فراہم کرے گی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے  اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نئی پالیسی کی تیاری کے حوالے سے کافی کام کیا گیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس میں خصوصی دلچسپی لی۔ کابینہ سے پالیسی کی منظوری کا عمل سنیچر کے روز سے شروع ہو گیا ہے۔

پاکستان میں اس نئی آٹو پالیسی کے اعلان نے اس شعبے میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب ملک میں چینی کمپنیوں کی الیکٹرک گاڑیوں کے یکے بعد دیگرے ماڈل متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ اب ان کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کی کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

اس کی ایک مثال جیکو جے فائیو کی ہے جسے حال ہی میں متعارف کرایا گیا ہے اور سوشل میڈیا پر صارفین کی ایک بڑی تعداد اس پر اپنی رائے دیتی نظر آ رہی ہے۔ 49 کلو واٹ آور کی بیٹری والی اس الیکٹرک کار کی قیمت 59 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔ ستمبر کے دوران چیری کیو متعارف کرائی گئی تھی جس میں 42.7 کلو واٹ آور کی بیٹری نصب ہے اور اس کی قیمت ساڑھے 55 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔

اگر حکومت کی نئی آٹو پالیسی پر عملدرآمد شروع ہو گیا تو ان سمیت ایسی کئی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔ مگر یاد رہے کہ ان تجاویز پر عملدرآمد عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری سے مشروط ہے۔

ہارون اخترنے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی چھ بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے، جن میں سستی گاڑیوں کی فراہمی، خصوصاً متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لیے سہولت، برآمدات کا فروغ، مقامی سطح پر پرزوں کی تیاری، گاڑیوں کا تحفظ، الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ اور شفافیت شامل ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کن گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔آل پاکستان موٹرز ڈیلر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایس ایم شہزاد کی رائے میں الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کے سوا کسی گاڑی کی قیمت میں بڑی کمی کی توقع نہیں اور وہ بھی اس شرط پر کہ اگر آئی ایم ایف کی طرف سے نئے سیلز ٹیکس سلیبز مان لیے جاتے ہیں۔

ادھر پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز کے چیئرمین عبدالرحمن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پہلی بار گاڑی خریدنے والوں یا کم آمدنی والے صارفین کے لیے کوئی خصوصی مراعات نہیں دی گئیں۔ اس کے برعکس ‘قرض کی حد اور واپسی کی مدت میں اضافہ صرف درآمد شدہ نیو انرجی وہیکلز (این ای وی) کے لیے کیا گیا ہے۔’

انھوں نے کہا سوزوکی آلٹو، سوئفٹ، ہنڈا سٹی اور ٹویوٹا یارس جیسی گاڑیوں کے خریداروں کے لیے ‘قرض کی سہولت یا ٹیکس میں کوئی رعایت نہیں دی گئی۔’

ایچ ایم شہزاد بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کم آمدنی والے افراد کے لیے اس پالیسی میں ایسی مراعات نہیں کہ وہ گاڑیاں خرید سکیں۔ ‘ایسے افراد موٹر سائیکل ہی افورڈ کر سکتے ہیں۔’

تو پھر اس پالیسی سے کون سی کمپنیاں سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتی ہیں اور سب سے زیادہ نقصان کن کمپنیوں کو ہو سکتا ہے؟

دو دہائیوں سے پاکستان کی مختلف آٹو کمپنیوں سے منسلک رہنے والے شبیر الدین کہتے ہیں کہ اس پالیسی سے سب سے زیادہ فائدہ چینی آٹو کمپنیوں کو ہوگا جن میں بی وائے ڈی، چیری اور جی اے سی شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اچھے معیار کی چھوٹی چینی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں ’سوزوکی آلٹو کے آس پاس آ سکتی ہیں۔‘ وہ مثال دیتے ہیں کہ سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی بدولت چیری کیو کی قیمت 55 لاکھ سے کم ہو کر 42 لاکھ روپے ہو سکتی ہے۔ جبکہ جی اے سی کی آئیون یو ٹی کی قیمت 64 لاکھ سے کم ہو کر 50 لاکھ روپے پر آ جائے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ اس پالیسی سے سب سے زیادہ نقصان تینوں جاپانی کمپنیوں سوزوکی، ہنڈا اور ٹویوٹا کو ہوگا۔ ان کے بقول ایک ماہ میں آلٹو، سوئفٹ، کلٹس، فرونکس، یارس اور سٹی کی مجموعی فروخت قریب 13 ہزار یونٹس کی ہوتی ہے۔ مگر اب چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں ان کا مارکیٹ شیئر لے سکتی ہیں۔

آٹو مارکیٹ کے ماہر نبیل علی کہتے ہیں کہ یہ پاکستان میں نئے رجحان کی طرف اشارہ ہے کہ نئی گاڑیاں اپنی قدر کھو دیں گی اور ایک اثاثہ تصور نہیں ہوں گی جیسے کہ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کورین کمپنیوں کی گاڑیوں پر پہلے ہی لاکھوں روپے کے ڈسکاؤنٹس چل رہے ہیں جبکہ سازگار کی لگژری کار ٹینک کی قیمت چھ ماہ میں ہی تین سے چار ملین تک گِر چکی ہے۔(بشکریہ:بی بی سی اردو)

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    صحافی اور اینکرربیعہ احسن کی لاش گھرسے برآمد،گردن کے نیچے گولی ماری گئی۔پولیس نے شوہر کو حراست میں لے لیا

    نومبر 8, 2026

    ایک ہفتے کے لیے بھارتی مقبول شو "کون بنے گاکروڑپتی”کی شوٹنگ روک دی گئی

    نومبر 8, 2026

    انڈر 19 ایشیا کپ میں پاکستان نے بھارت کو 3 وکٹ سے شکست دے دی

    نومبر 8, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    بجلی کے بلوں کا اضافی بوجھ

    نومبر 8, 2026

    کردار،اخلاق اورذمہ داریاں:مرداورعورت، یکساں طورپر جواب دہ ہیں

    نومبر 7, 2026

    کیا نیتن یاہو کا دھڑن تختہ ہوگا؟

    نومبر 6, 2026

    آپ کسی تعارف کے محتاج نہیں

    نومبر 5, 2026

    پاکستان میں غربت کی بڑھتی شرح

    نومبر 4, 2026

    آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم کا ملکی تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار

    نومبر 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram
    All Right Reserved © Vision Point PK 2026 . Managed by Vision Point

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.