وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی میں رکاوٹ بننے والے ہاتھ کاٹ دیں گے،،
تونسہ شریف میں کچھی کینال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ایک سیاسی جماعت سعودی عرب کے خلاف زہر اگل رہی ہے،، ایسے بیانات پر سعودی قیادت پاکستانی عوام اور سیاستدانوں کے بارے کیا رائے قائم کریں گے،،
وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بیان کو پاکستان دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا اس فطرت کے لوگوں کو اندازہ نہیں کہ ان کے بیان سے پاکستان کوکتنا نقصان ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نفرتوں کے بیچ بوئے جارہے ہیں،ذاتی اور سیاسی مفاد کی خاطربیانات دیے جارہےہیں، یہ کیسا سیاسی مفاد ہے جوپاکستان کے اعلیٰ ترین مفاد کو کاٹ رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کسی کو پاکستان کے مفادات سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ سعودی عرب کی پاکستان کے لیے غیرمشروط مالی اور سفارتی حمایت کو سراہتے ہوئے دوٹوک طور پر کہا ہے کہ ایسے برادر ملک کے خلاف زہر اگلنا ناقابل معافی جرم ہے۔۔۔
سعودی عرب جیسے دیرینہ دوست کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کرکے کسی کو پاکستان کے مفاد سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے، سیاسی مفاد کے لیے نفرتوں کے بیج بونے اور پاکستان کے مفاد کو دائو پر لگا کر سیاسی مفاد حاصل کرنے سے گریز کیا جائے، پاکستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد ہو کر ملک دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا ایک ایسا دوست اور برادر ملک ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، ہر دور اور ہر حکومت میں سعودی عرب نے بلاتفریق پاکستان کے عوام اور حکومت کی مالی، اقتصادی اور سفارتی مدد کی ہے، ہمیشہ عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ لڑا ہے، ہر محاذ پر پاکستان کی بے مثال مدد کی، اس کے بدلے میں 77 سال میں کوئی مطالبہ یا سیاسی عزائم نہیں رکھے، ہمیشہ غیرمشروط طور پر بھائیوں کی طرح ہماری مدد کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ روز سعودی عرب کے حوالے سے دیئے جانے والے بیان سے زیادہ پاکستان دشمنی کوئی نہیں ہو سکتی، سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں، ہمیشہ کھل کر پاکستان کی مدد کی، میرے حالیہ دوروں کے دوران سعودی حکومت نے پاکستان میں خطیر سرمایہ کاری کی بات کی، اس حوالے سے معاہدے ہوئے، ایسے شفیقانہ رویے کے حامل دوست ملک کے خلاف زہر اگلنا افسوسناک ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب کی تحسین اور اس کے لیے اچھے جذبات کے بجائے زہر آلود بیانات دیئے جا رہے ہیں، انہیں اس کے نقصانات کا اندازہ نہیں ہے، پاکستان جب ایٹمی طاقت بنا تو اس وقت عالمی پابندیوں کے باوجود سعودی عرب نے ہمیں مفت تیل دیا ، جنرل مشرف کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا، سعودی عرب ہمارا وکیل ہے جس نے پاکستان کی اربوں ڈالر کی مدد کی، آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکج سعودی عرب کی وجہ سے ملا، اس کے خلاف زہر اگلنا ناقابل معافی جرم ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان جب مدینہ ننگے پاؤں گئے اور واپس آئے تو جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئیں کہ یہ آپ کس شخص کو لے آئے۔
بشریٰ بی بی نے اپنے ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ عمران خان جب مدینہ ننگے پاؤں گئے اور واپس آئے تو جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئیں، انہیں کہا گیا کہ یہ آپ کس شخص کو لے کر آئے ہیں، ہمیں ایسے لوگ نہیں چاہئیں۔
دوسری جانب سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ نے بشریٰ بی بی کے دعوے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کا دوست اور محسن ہے، سعودی عرب نےہر دور میں پاکستان کی بھر پور مدد کی، سعودی عرب نے بانی پی ٹی آئی کی حکومت کا بھی بہت خیال رکھا اور مدد کی۔
سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کا غیر ذمہ دارانہ بیان سراسر بے بنیاد ہے، سیاسی مفادات کے لیے بے بنیاد الزامات لگا کر قومی مفادات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔