Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Facebook X (Twitter) Instagram
ہفتہ, اکتوبر 17
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»خبریں»پہلی سہ ماہی کا ٹیکس ہدف پورا نہ ہوا، کیا منی بجٹ ناگزیر ہے؟
خبریں

پہلی سہ ماہی کا ٹیکس ہدف پورا نہ ہوا، کیا منی بجٹ ناگزیر ہے؟

EditorBy Editorاکتوبر 1, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

حکومت رواں مالی سال کے ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ جولائی سے ستمبر تک ٹیکس آمدنی میں 96 ارب روپے کی کمی آئی۔

پہلی سہ ماہی کے لئے آئی ایم ایف نے حکومت کو 2652 ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا ہدف دیا تھا۔ حکومت تین ماہ میں 2556 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کر سکی۔

رواں مالی سال کے لئے مجموعی ٹیکس آمدنی کا ہدف 12 ہزار 970 ارب روپے ہے۔ آئی ایم ایف پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر حکومت ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوئی تو پاکستان عوام پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جائے گا۔

کیا منی بجٹ ناگزیر ہے؟

اگر حکومت ٹیکس ہدف پورا نہ کر سکی تو 15 اکتوبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ رک سکتا ہے۔ حکومت پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر سکتی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سستے تیل کا فائدہ عام عوام کو نہیں پہنچ سکے گا۔

ایف بی آر ستمبر 2024 کے لیے 1100 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کو چھونے اور عبور کرنے کی جانب گامزن ہے جبکہ اس ماہ کے لیے 1098 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

آئی ایم ایف نے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری دیتے ہوئے خبردار کیا تھا اگر پہلی سہ ماہی کے ہدف کو حاصل کرنے میں 2 فیصد سے کچھ زیادہ کمی ہوئی تو اضافی محصولات کے اقدامات کرنے پر غور کرنا پڑے گا۔

حکومت کا سخت نفاذ کے اقدامات کا منصوبہ ہے۔ بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنا، ممکنہ ٹیکس چوروں کے لیے جائیداد اور گاڑیوں کی خریداری پر پابندی شامل ہے لیکن اس کے لیے قانون سازی میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے لہذا ٹیکس قوانین میں ایسی مطلوبہ تبدیلیوں کو عملی جامہ پہنانے اور نافذ کرنے کے لیے منی بجٹ کا امکان ہوگا۔

اب ایف بی آر کو رواں مالی سال کی بقیہ تین سہ ماہی (اکتوبر تا جون) کے دوران 40 فیصد کے قریب محصولات میں اضافہ حاصل کرنے کے لیے چیلنجنگ صورتحال کا سامنا ہے۔ موجودہ حکومت کی اہلیت اور صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں پنجاب پولیس کے خلاف مذمتی قرارداد کثرت رائے سے منظور

    ستمبر 15, 2026

    پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

    جولائی 23, 2026

    بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، وزیراعظم

    جون 3, 2026

    Comments are closed.

    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.