نیتن یاہو کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کردیا ہے۔ انہوں نے 30 لاکھ اسرائیلی شیکل، یعنی تقریباً 9 لاکھ 75 ہزار امریکی ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، مقدمے کا تعلق نیتن یاہو کے اس الزام سے ہے کہ رونن بار کو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے خطرے کا علم تھا، لیکن انہوں نے وزیراعظم کو بروقت آگاہ نہیں کیا۔
رونن بار نے اس الزام کو اپنی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حملے سے پہلے متعدد مرتبہ ممکنہ خطرات سے خبردار کیا تھا۔
عدالتی درخواست میں رونن بار نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 23 جولائی 2023 کو نیتن یاہو سے محفوظ ٹیلی فون لائن پر گفتگو کی تھی۔ اس دوران انہوں نے ممکنہ جنگ سے متعلق تزویراتی انتباہ دیا۔
ان کے مطابق، انہوں نے اسرائیل کے اندرونی سیاسی اختلافات سے دشمنوں کو فائدہ اٹھانے کے خطرے کی نشاندہی بھی کی تھی رونن بار نے مزید کہا کہ 21 اگست کو بھی انہوں نے غزہ سے حملوں میں اضافے اور مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
ان کے مطابق، یکم اکتوبر 2023 کو انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے حملوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اہم رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی تجویز بھی دی تھی۔ تاہم، ان کے دعوے کے مطابق، اس تجویز پر عمل نہیں ہوا۔
رونن بار نے مقدمے میں کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کی صبح شن بیت نے ممکنہ حملے سے متعلق معلومات متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔ ان کے مطابق، وزیراعظم کے فوجی سیکریٹریٹ کو بھی معلومات فراہم کی گئیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انٹیلی جنس ادارے نے رات کے دوران مختلف سطحوں پر رابطے کیے تھے۔ تاہم، ان کے بقول، اس وقت کسی نے بھی حملے کے مکمل پیمانے کا اندازہ نہیں لگایا تھا۔
رونن بار نے انٹیلی جنس ناکامی کی ذمہ داری سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شن بیت مطلوبہ انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ اسی ذمہ داری کے تحت انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

