Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Facebook X (Twitter) Instagram
Trending
  • سیکیورٹی فورسز کا واشک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن،5 دہشتگرد ہلاک
  • بنوں: تھانہ کینٹ مسلم آباد میں فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید
  • حوثیوں کا سعودی عرب میں ہوائی اڈوں اور تیل تنصیبات پر حملے جاری رکھنے کا اعلان
  • ایران اور پاکستان کا مالیاتی اور بینکاری تعاون بڑھانے پر اتفاق
  • امریکا کی 8 ریاستوں میں اوپن اے آئی کے خلاف مقدمات، بچوں کو نقصان پہنچانے کے الزامات
  • اپنے مطالبات کی منظوری کے بغیر ایران جنگ ختم کرنے پر آمادہ نہیں۔ اسپیکر قالیباف
  • اسرائیلی فوج میں بھرتی ہو کر جاسوسی کرنے والا شخص گرفتار، 24 سال 6 ماہ قید
  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی چیف کا وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ، 30 لاکھ شیکل ہرجانے کا مطالبہ
Facebook X (Twitter) Instagram YouTube TikTok
Demo
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»دنیا»اسرائیلی خفیہ ایجنسی چیف کا وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ، 30 لاکھ شیکل ہرجانے کا مطالبہ
دنیا

اسرائیلی خفیہ ایجنسی چیف کا وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ، 30 لاکھ شیکل ہرجانے کا مطالبہ

EditorBy Editorاکتوبر 15, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

نیتن یاہو کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کردیا ہے۔ انہوں نے 30 لاکھ اسرائیلی شیکل، یعنی تقریباً 9 لاکھ 75 ہزار امریکی ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، مقدمے کا تعلق نیتن یاہو کے اس الزام سے ہے کہ رونن بار کو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے خطرے کا علم تھا، لیکن انہوں نے وزیراعظم کو بروقت آگاہ نہیں کیا۔

رونن بار نے اس الزام کو اپنی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حملے سے پہلے متعدد مرتبہ ممکنہ خطرات سے خبردار کیا تھا۔

عدالتی درخواست میں رونن بار نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 23 جولائی 2023 کو نیتن یاہو سے محفوظ ٹیلی فون لائن پر گفتگو کی تھی۔ اس دوران انہوں نے ممکنہ جنگ سے متعلق تزویراتی انتباہ دیا۔

ان کے مطابق، انہوں نے اسرائیل کے اندرونی سیاسی اختلافات سے دشمنوں کو فائدہ اٹھانے کے خطرے کی نشاندہی بھی کی تھی رونن بار نے مزید کہا کہ 21 اگست کو بھی انہوں نے غزہ سے حملوں میں اضافے اور مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

ان کے مطابق، یکم اکتوبر 2023 کو انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے حملوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اہم رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی تجویز بھی دی تھی۔ تاہم، ان کے دعوے کے مطابق، اس تجویز پر عمل نہیں ہوا۔

رونن بار نے مقدمے میں کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کی صبح شن بیت نے ممکنہ حملے سے متعلق معلومات متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔ ان کے مطابق، وزیراعظم کے فوجی سیکریٹریٹ کو بھی معلومات فراہم کی گئیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انٹیلی جنس ادارے نے رات کے دوران مختلف سطحوں پر رابطے کیے تھے۔ تاہم، ان کے بقول، اس وقت کسی نے بھی حملے کے مکمل پیمانے کا اندازہ نہیں لگایا تھا۔

رونن بار نے انٹیلی جنس ناکامی کی ذمہ داری سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شن بیت مطلوبہ انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ اسی ذمہ داری کے تحت انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

Related Posts

حوثیوں کا سعودی عرب میں ہوائی اڈوں اور تیل تنصیبات پر حملے جاری رکھنے کا اعلان

اکتوبر 15, 2026

ایران اور پاکستان کا مالیاتی اور بینکاری تعاون بڑھانے پر اتفاق

اکتوبر 15, 2026

امریکا کی 8 ریاستوں میں اوپن اے آئی کے خلاف مقدمات، بچوں کو نقصان پہنچانے کے الزامات

اکتوبر 15, 2026

Comments are closed.

Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.