Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

اکتوبر 20, 2026

پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

اکتوبر 20, 2026

طالبہ لائبہ اعجاز سے فراڈ کرنے والا زیر حراست ملزم پولیس مقابلے کے دوران ہلاک

اکتوبر 20, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
منگل, اکتوبر 20
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»فیکٹ چیک»عینی شاہد کا دعویٰ: کابل حملے میں ہسپتال نہیں بلکہ عسکریت پسندوں کا ٹھکانہ نشانہ بنا
فیکٹ چیک

عینی شاہد کا دعویٰ: کابل حملے میں ہسپتال نہیں بلکہ عسکریت پسندوں کا ٹھکانہ نشانہ بنا

EditorBy Editorمارچ 17, 2026Updated:مارچ 17, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

ویژن پوائنٹ فیکٹ چیک: کابل میں حالیہ حملے کے بعد سامنے آنے والے متضاد بیانات کے درمیان ایک عینی شاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں کسی سول ہسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ایک ایسے مقام کو ہدف بنایا گیا جو مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال تھا۔

عینی شاہد کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی جگہ ایک قلعہ بند کمپاؤنڈ تھا جہاں غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی جاتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ مقام عام شہری سرگرمیوں کے بجائے سیکیورٹی نوعیت کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا تھا، جس سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ یہ کوئی طبی سہولت نہیں تھی۔

یہ بیان ان الزامات کے برعکس سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ حملے میں "امید ہسپتال” کو نقصان پہنچا۔ حکام پہلے ہی اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ مذکورہ ہسپتال حملے کی اصل جگہ سے فاصلے پر واقع ہے، جبکہ نشانہ بننے والا مقام ایک معروف فوجی تنصیب بتایا جا رہا ہے۔

عینی شاہد نے مزید کہا کہ حملے کے بعد جائے وقوعہ پر موجود ڈھانچے اور ملبے کی نوعیت بھی کسی ہسپتال سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ ان کے مطابق وہاں کنٹینرز اور عسکری طرز کے انفراسٹرکچر کے آثار موجود تھے، جو کسی شہری طبی مرکز کے بجائے ایک عسکری کمپاؤنڈ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

دوسری جانب، طالبان کی جانب سے اب تک یہ مؤقف برقرار رکھا گیا ہے کہ حملے میں ایک شہری سہولت کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، اس حوالے سے آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں متضاد معلومات کا سامنے آنا غیر معمولی نہیں، خاص طور پر جب مختلف فریق اپنے اپنے بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حتمی نتائج اخذ کرنے سے قبل آزاد تحقیقات اور قابلِ اعتماد شواہد کا انتظار ضروری ہے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    افغان حکومت کا کے پی اوربلوچستان میں مبینہ داعش کیمپس کو ڈرونز سے نشانہ بنانےکا پروپیگنڈا

    جون 19, 2026

    چمن پھاٹک کوئٹہ دھماکہ: سوشل میڈیا پر منظم گمراہ کن مہم بے نقاب

    مئی 24, 2026

    کوئٹہ چمن پھاٹک دھماکہ سے متعلق ” را” کے زیر اثر چلنے والے ایکس اکائونٹس کی گمراہ کن پروپیگنڈ ہ مہم کا پردہ چاک

    مئی 24, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم کی اصل دولت

    اپریل 8, 2026

    انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

    فروری 24, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026

    عوامی ایکشن کمیٹی: ایک عوامی تحریک یا نظریاتی یرغمالی؟

    فروری 11, 2026

    رائزنگ اسٹار ایشیا کپ میں پاکستان شاہینز نے بھارت کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    نومبر 16, 2025
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.