پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعدادوشمار پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مواد بلاک کرنے کی درخواستوں پر عملدرآمد کی مجموعی شرح 86.38 فیصد ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق فیس بک پر مواد بلاک کرنے کی درخواستوں پر عملدرآمد کی شرح 76.38 فیصد ہے، جبکہ اسے 38.1 فیصد بتانا درست نہیں۔ اسی طرح ایکس پر درخواستوں پر عملدرآمد کی شرح 43.92 فیصد ہے، نہ کہ 7.4 فیصد۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یوٹیوب پر مواد بلاک کرنے کی درخواستوں پر عملدرآمد کی شرح 86.12 فیصد ہے، جبکہ اسے 1.9 فیصد بتانا درست نہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق دہشت گردی سے متعلق مواد بلاک کرنے کی درخواستوں پر عملدرآمد کی شرح 77.38 فیصد ہے، نہ کہ 47 فیصد۔
پی ٹی اے نے وضاحت کی کہ مختلف نوعیت کی شکایات متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھیجی جاتی ہیں اور ان درخواستوں پر عملدرآمد کی شرح شکایت کی قسم اور متعلقہ مدت کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہے۔
اتھارٹی کے مطابق کسی ایک زمرے کے اعدادوشمار کو تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مواد بلاک کرنے کی مجموعی شرح قرار نہیں دیا جاسکتا۔

