امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے ثالثوں کی تجاویز کا مسودہ سامنے آگیا۔
عرب میڈیا ادارے العربیہ کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں مفاہمت کے سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کےلیے کھولنے کی تجویز دی گئی ہے،مجوزہ تجاویز کے تحت ایران اپنا اعلیٰ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ کسی تیسرے ملک منتقل کرے گا، یورینیم افزودگی کی سطح کم کرنے کی تجویز بھی فریم ورک میں شامل ہے۔
معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے چین کے ممکنہ کردار کی تجویز دی گئی ہے،امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات دوحا میں منعقد کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
مسودے میں یہ بھی تجویزکیاگیا ہےکہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہر اقدام کا جواب دے گا،ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں واضح طریقہ کار وضع کیا جائے گا،اس کے علاوہ معاہدے کی پابندی یقینی بنانے اور عملدرآمد کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی میکانزم قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کو معاہدے کے لیے موجودہ موقع سے فائدہ اٹھانے کا پیغام دیا ہے،امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کےمطابق ایران کے پاس معاہدے تک پہنچنے کا بہترین موقع یہی وقت ہے،ریپبلکنز کےوسط مدتی انتخابات ہارنےکی صورت میں صدرٹرمپ ایران میں فوجی آپریشن کا حکم دے سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس عہدیدارکا کہنا ہےکہ انتخابات کے نتائج ایران سے متعلق ٹرمپ کے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔

