Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

یہ ایک حادثہ ہے۔مریم نواز اورفیلڈ مارشل عاصم منیر سے درخواست کرتا ہوں کہ اس حادثے کو میرے اُوپر نہ ڈالا جائے، میرا کوئی قصور نہیں۔ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو

نومبر 2, 2026

امریکہ میں طیارہ گر کر تباہ۔تمام افراد جاں بحق

نومبر 2, 2026

پنجاب: دیہی خواتین کے روزگار کے لئے بڑا منصوبہ تیار، رجسٹریشن شروع

نومبر 2, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
پیر, نومبر 2
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم
Home»پاکستان»پختونخوا؛ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، 72 ارب روپے پر سوالیہ نشان
پاکستان

پختونخوا؛ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، 72 ارب روپے پر سوالیہ نشان

EditorBy Editorنومبر 2, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کے دوران مالی سال 2024-25 میں اربوں روپے کی سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

مالی سال 2024-25 کے سرکاری اخراجات، ترقیاتی فنڈز اور بیرونی قرضوں کے حسابات میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق صوبے میں 72 ارب 46 کروڑ روپے کے سرکاری اخراجات کی مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق صوبائی اسمبلی کے منظور شدہ بجٹ سے 104 ارب 26 کروڑ روپے زائد SAP سسٹم میں درج کیے گئے۔ منظور شدہ بجٹ سے زیادہ اندراجات نے صوبائی حکومت کے مالیاتی نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 153 ارب 68 کروڑ روپے کے ترقیاتی اخراجات غلط حساباتی مد میں ظاہر کیے گئے۔ ترقیاتی فنڈز کو جاری اخراجات ظاہر کرنے سے سرکاری مالیاتی گوشواروں میں سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ میں پبلک اکاؤنٹ میں 39 ارب 58 کروڑ روپے کے منفی بیلنس کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، جو وصولیوں سے زائد ادائیگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں 98 ارب 89 کروڑ روپے کے بیرونی قرضوں کا حساباتی ریکارڈ نامکمل پایا گیا ہے۔

اسی طرح  بیرونی قرضوں کی وصولیوں، واپسی اور گرانٹس کی مکمل تفصیلات دستیاب نہیں ہیں، جبکہ غیر ملکی قرضوں اور سود کی مد میں 51 ارب 85 کروڑ روپے کی ادائیگیوں کی بھی مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔ ان امور پر آڈٹ کی جانب سے سنگین اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ خیبرپختونخوا کے اندرونی قرضوں کا ریکارڈ 2017-18 کے بعد اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا، جبکہ وفاقی حکومت سے حاصل کردہ قرضوں کی تفصیلات بھی 2013-14 کے بعد اپ ڈیٹ نہیں کی گئیں۔ قرضوں کے ریکارڈ میں یہ خامیاں مالیاتی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھاتی ہیں۔

علاوہ ازیں صوبائی ترقیاتی بجٹ کی ایک مد میں 20 ارب 20 کروڑ روپے کے اضافی اندراجات بھی سامنے آئے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق صحت، تعلیم، پولیس، شاہراہوں اور دیگر محکموں کے بجٹ میں بھی اربوں روپے کے اضافی اندراجات کیے گئے۔

خیبرپختونخوا میں سرکاری اخراجات اور قرضوں کے نامکمل ریکارڈ نے مالیاتی نگرانی اور بجٹ کی شفافیت پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    یہ ایک حادثہ ہے۔مریم نواز اورفیلڈ مارشل عاصم منیر سے درخواست کرتا ہوں کہ اس حادثے کو میرے اُوپر نہ ڈالا جائے، میرا کوئی قصور نہیں۔ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو

    نومبر 2, 2026

    پنجاب: دیہی خواتین کے روزگار کے لئے بڑا منصوبہ تیار، رجسٹریشن شروع

    نومبر 2, 2026

    قلعہ عبداللّٰہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق

    نومبر 2, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    حرم پاک کے کبوتر (مکہ کے یہ کبوتر اس شہر کی دیرینہ روایات کی ایک زندہ علامت ہیں)

    نومبر 2, 2026

    بھٹو کی نتھ فورس

    اکتوبر 30, 2026

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم کی اصل دولت

    اپریل 8, 2026

    انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

    فروری 24, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram
    All Right Reserved © Vision Point PK 2026 . Managed by Vision Point

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.