پاکستان نے عالمی ڈیجیٹل منظرنامے میں بڑھتے ہوئے مسائل پر تشویش ظاہر کی ہے۔ پاکستانی مندوب نے خبردار کیا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نگرانی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق، اس عمل سے حق خودارادیت کی جائز تحریکیں متاثر ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے پریس قونصلر امانت علی نے یہ مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی سے خطاب کیا۔ یہ کمیٹی خصوصی سیاسی اور نوآبادیاتی امور سے متعلق ہے۔ خطاب اطلاعات سے متعلق امور کے جائزے کے آغاز پر کیا گیا۔
امانت علی نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش اور سنسرشپ کے ذریعے جائز آوازیں دبائی جاتی ہیں۔ ڈیجیٹل نگرانی اور سخت میڈیا قوانین بھی اس مقصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان اقدامات سے زمینی حقائق مسخ ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ بنیادی حقوق اور حق خودارادیت کی جدوجہد کو غیر معتبر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پاکستانی مندوب نے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تعصب اور تقسیم پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے عالمی تعاون ضروری ہے۔
امانت علی نے کثیرالقومی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے غیر معمولی اختیارات پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے ان کمپنیوں کے ہاتھوں طاقت کے ارتکاز کو روکنے پر زور دیا۔ اسی طرح مقبوضہ علاقوں اور تنازعات کے شکار خطوں میں میڈیا پابندیوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی پابندیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیوں کے غلط استعمال کو روکنا ضروری ہے۔
پاکستانی مندوب کے مطابق، غلط معلومات اور گمراہ کن پروپیگنڈا سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ نفرت انگیز مواد بھی معاشروں میں تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رجحانات اب صرف ابلاغی مسائل نہیں رہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ منظم انداز میں ایسے مواد کا استعمال عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ مزید یہ کہ تنازعات کے دوران رائے عامہ بھی متاثر ہوتی ہے۔
امانت علی نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے غیر شفاف الگورتھمز پر تنقید کی۔ انہوں نے مواد سے متعلق ان کمپنیوں کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق، یہ کمپنیاں مؤثر جواب دہی کے بغیر عالمی مباحثے پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ وہ اطلاعات کے بہاؤ کو بھی کنٹرول اور تبدیل کر رہی ہیں۔
امانت علی نے قابض قوتوں کی جانب سے اطلاعات تک رسائی روکنے کی حکمت عملی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش اور ڈیجیٹل نگرانی اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ سنسرشپ اور سخت میڈیا قوانین بھی اسی سلسلے کا حصہ ہیں۔
ان اقدامات کے نتیجے میں زمینی حقائق مسخ ہوتے ہیں۔ دوسری جانب، عوام کو آزادانہ معلومات تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
پاکستانی مندوب نے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی علم میں اضافے اور ترقی کے عمل کو تیز کر سکتی ہے۔
تاہم، انہوں نے اس کے غلط استعمال سے خبردار کیا۔ ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس سے معلومات کی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اس شعبے کے لیے شفاف عالمی نظامِ حکمرانی ضروری ہے۔
امانت علی نے اقوام متحدہ کے شعبہ اطلاعات (ڈی جی سی) سے بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کثیراللسانی نظام کے فروغ کے لیے مزید وسائل مختص کرنے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے اقوام متحدہ کی سرکاری زبانوں کے درمیان فرق کم ہوگا۔ مزید یہ کہ مستند اور متوازن معلومات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے گی۔

