چین کی جوابی کارروائی: امریکی زرعی مصنوعات پر 10%-15% نئے محصولات عائد

صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات 30 اکتوبر کو ہوگی: وائٹ ہاؤس

چین نے امریکہ کے خلاف تجارتی جنگ میں جوابی وار کرتے ہوئے امریکی زرعی اور غذائی مصنوعات پر 10% سے 15% نئے ٹیرف عائد کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ، بیجنگ نے 25 امریکی کمپنیوں کو برآمدات اور سرمایہ کاری کی پابندیوں میں شامل کر لیا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی محصولات پالیسی کے جواب میں ایک سخت ردعمل ہے۔

امریکی زراعت پر بڑا اثر، عالمی تجارت میں ہلچل

متاثرہ شعبے:

  • سویا بین، مکئی، گندم، سمندری غذا
  • امریکی زرعی صنعتیں، جو چینی درآمدات پر انحصار کرتی ہیں، سخت دباؤ میں آ سکتی ہیں۔
  • چین کے متبادل ذرائع:
  • چینی درآمد کنندگان اب برازیل اور جنوبی امریکہ کی زرعی منڈیوں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔
  • برازیلی سویا بین پہلے ہی چین کی اولین ترجیح بن چکی ہے، جس کے باعث عالمی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

چین-امریکہ تجارتی تعلقات مزید کشیدہ

بیجنگ کا سخت مؤقف:

  • چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ مزید اقتصادی پابندیاں لگاتا ہے تو وہ بھی اضافی جوابی اقدامات کرے گا۔
  • 25 امریکی کمپنیوں پر نئی تجارتی پابندیاں ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔

🚨 واشنگٹن کا ردعمل:

  • وائٹ ہاؤس کے مطابق، چین کا یہ اقدام "غیر منصفانہ تجارتی رویے” کی عکاسی کرتا ہے، جس کے جواب میں مزید سخت اقدامات زیر غور ہیں۔
  • ٹرمپ انتظامیہ نے عندیہ دیا کہ وہ چینی مصنوعات پر اضافی محصولات لگانے پر غور کر رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے