لاہور — برصغیر کے عظیم موسیقار، نغمہ نگار اور ہدایت کار خواجہ خورشید انور کو دنیا سے رخصت ہوئے 41 برس گزر گئے، مگر ان کے تخلیق کردہ نغمے آج بھی دلوں میں تازگی اور سحر طرازی پیدا کرتے ہیں۔
خواجہ خورشید انور 21 مارچ 1912ء کو میانوالی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ایم اے کیا اور 1936ء میں سول سروس کا امتحان پاس کر کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئے۔ تاہم فنِ موسیقی کے ساتھ ان کی فطری وابستگی نے انہیں جلد ہی آل انڈیا ریڈیو کے پلیٹ فارم تک پہنچا دیا جہاں سے ان کے شاندار فنی سفر کا آغاز ہوا۔
انہوں نے ہارمونیم یا ساز کے بغیر محض ماچس کی ڈبیا پر دھنیں تخلیق کرنے جیسا منفرد کارنامہ بھی انجام دیا، جو آج تک ان کی غیر معمولی موسیقی حس کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
خواجہ خورشید انور نے مجموعی طور پر 28 فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی، جن میں کوئل، چنگاری، گھونگھٹ، ہمراز، انتظار اور ہیر رانجھا شامل ہیں۔
ان کی فلم ہیر رانجھا کا مشہور گیت "سن ونجلی جی مٹھڑی تال وے” آج بھی کلاسیکی موسیقی کی دنیا میں ایک شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔
بطور ہدایت کار بھی انہوں نے کئی یادگار فلمیں بنائیں، جن میں ہمراز، چنگاری اور گھونگھٹ نمایاں ہیں۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 1980ء میں ستارۂ امتیاز سے نوازا، جب کہ 1982ء میں بھارتی فلم انڈسٹری نے انہیں فانی انسان، لافانی گیت ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا۔
ان کا حلقۂ احباب استاد دامن، فیض احمد فیض اور راجندر سنگھ بیدی جیسے عظیم اہلِ قلم پر مشتمل تھا، جس کے اثرات ان کے فن کی گہرائی اور شاعرانہ مزاج میں نمایاں طور پر جھلکتے ہیں۔
خواجہ خورشید انور 30 اکتوبر 1984ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کی موسیقی آج بھی برصغیر کی فنی وراثت میں زندہ ہے۔
