ساؤ پالو — برازیل نے پیر کے روز COP30 عالمی موسمیاتی سربراہی اجلاس سے منسلک تین ہفتوں پر مشتمل موسمیاتی سرگرمیوں کا باضابطہ آغاز کیا ہے۔ ان تقریبات کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ برازیل اب بھی ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، اگرچہ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
برازیل نے ریو ڈی جنیرو، ساؤ پالو اور بیلم سمیت بڑے شہروں میں مختلف پروگراموں کا آغاز کیا ہے۔
ساؤ پالو میں منعقدہ اجلاس میں کاروباری رہنماؤں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے فوری طور پر مالی مراعات متعارف کرائیں تاکہ جیواشم ایندھن (Fossil Fuels) پر انحصار کم کیا جا سکے۔
"یہ وقت ہے کہ کاروبار، سائنس اور حکومت مل کر فوری اقدامات کریں،”
وی مین بزنس کولیشن کی سی ای او ماریا مینڈیلوس نے کہا، جنہوں نے 35 تنظیموں کے دستخط شدہ خط کو عالمی حکومتوں تک پہنچایا۔
ریو ڈی جنیرو میں میئرز، گورنرز اور مقامی حکام کی شرکت سے ایک اجلاس ہو رہا ہے۔ تاہم حکام کو خدشہ ہے کہ حالیہ پولیس کریک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے اس اجلاس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اسی دوران، برطانوی شہزادہ ولیم بھی ریو میں اپنے سالانہ ارتھ شاٹ انعام (Earthshot Prize) کی تقریب کی صدارت کر رہے ہیں، جو ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
COP30 کے آغاز سے قبل عالمی برادری کو توانائی، سلامتی اور معاشی استحکام جیسے متضاد اہداف کے درمیان توازن قائم رکھنے میں مشکلات درپیش ہیں۔
امریکی ٹیرف پالیسی اور توانائی سے متعلق متضاد اعلانات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی یورپ میں جنگوں نے بین الاقوامی تعاون کو کمزور کیا ہے۔
اس کے باوجود کاروباری رہنما پرامید ہیں کہ صاف توانائی کی پالیسیوں کو ترجیح دی جائے گی۔
ہسپانوی گرین گروتھ گروپ کے چیئرمین گونزالو سانز ڈی میرا نے کہا “صاف توانائی کی سرمایہ کاری نہ صرف ماحولیاتی طور پر درست بلکہ معاشی طور پر فائدہ مند بھی ہے۔”
اس سال برازیل کی میزبانی کی اہمیت دوگنی ہے کیونکہ ریو ارتھ سمٹ (1992) کو 33 سال مکمل ہو گئے ہیں، جس میں پہلی بار اقوامِ متحدہ نے ماحولیاتی تبدیلی کے معاہدے پر دستخط کرائے تھے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کاربن کے اخراج میں کمی کی رفتار اب بھی ناکافی ہے — صنعتی انقلاب کے بعد سے فضا میں موجود کل اخراج کا تقریباً 40 فیصد گزشتہ تین دہائیوں میں ہوا ہے۔
بیلم میں 6 سے 7 نومبر تک ہونے والی رہنماؤں کی کانفرنس کے لیے اب تک 60 سے کم عالمی رہنما اپنی شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں — جو پچھلے سال کے COP29 (باکو) اور COP28 (دبئی) کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔
اسی طرح 10 تا 21 نومبر کے دوران ہونے والی مرکزی کانفرنس کے لیے صرف 12,200 شرکاء نے رجسٹریشن کرائی ہے، جبکہ COP28 میں 84,000 افراد شریک ہوئے تھے۔
برازیلی حکام کے مطابق محدود رہائش کی گنجائش اور زیادہ ہوٹل کرایوں نے کئی ممالک کے وفود کو اپنے شرکاء کی تعداد کم کرنے پر مجبور کیا ہے۔
برازیل کی حکومت چاہتی ہے کہ COP30 دنیا کو یہ باور کرائے کہ —“اب بھی وقت باقی ہے کہ ہم زمین کو بچا سکتے ہیں، بشرطیکہ الفاظ کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔”
