واشنگٹن / غزہ – ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے فلسطین میں اسرائیلی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے والی کم از کم 700 ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں۔
امریکی جریدے "دی انٹرسیپٹ” کے مطابق یہ ویڈیوز فلسطینی انسانی حقوق کی تین نمایاں تنظیموں — الحق، الميزان سینٹر فار ہیومن رائٹس اور فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق — کی ملکیت تھیں۔
ان ویڈیوز میں غزہ میں اسرائیلی حملوں سے متاثرہ شہریوں، تباہ شدہ علاقوں اور فلسطینی نژاد امریکی صحافی کے قتل سمیت کئی اہم واقعات کی دستاویزی ریکارڈنگز شامل تھیں۔
رپورٹ کے مطابق یوٹیوب کی یہ کارروائی ایک امریکی دباؤ مہم کے نتیجے میں کی گئی، جس کا مقصد اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات اور جواب دہی کو روکنا تھا۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
یوٹیوب، جو کہ گوگل کی ملکیت ہے، نے تصدیق کی کہ ان تنظیموں کے اکاؤنٹس کو امریکی تجارتی اور دیگر پابندیوں کے قوانین کی بنیاد پر معطل کیا گیا ہے۔
یوٹیوب کے ترجمان بوٹ بُلوِنکل نے کہا کہ کمپنی “تمام بین الاقوامی پابندیوں اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔”
سینٹر فار کانسٹی ٹیوشنل رائٹس کی سینئر وکیل کیتھرین گیلاگر نے اس اقدام کو امریکی حکومت کے سیاسی ایجنڈے کا تسلسل قرار دیا، جس کا مقصد “انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے ثبوت عوام کی نظروں سے چھپانا” ہے۔
الحق تنظیم کے ترجمان کے مطابق ان کا یوٹیوب چینل بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بند کر دیا گیا، جو پلیٹ فارم کے اپنے شفافیت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی برادری کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر سخت تنقید کی جا رہی ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فلسطینی مواد کی سنسر شپ بڑھتی جا رہی ہے۔
