کابل — افغانستان کے صوبہ بادغیس کے ضلع بالا مرغاب میں گزشتہ جنگوں سے بچا ہوا دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے دو کم سن بچے جاں بحق ہو گئے۔
خبر ایجنسی کے مطابق، صوبائی پولیس دفتر نے بتایا کہ بچے ایک کھلونے نما چیز کو کھیلنے کے لیے گھر لے آئے تھے، جو دراصل پرانا دھماکہ خیز مواد نکلا اور پھٹنے سے دونوں بچے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
افغانستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق، ملک کے تقریباً 1,150 مربع کلومیٹر رقبے پر اب بھی بارودی سرنگیں اور غیر پھٹے دھماکہ خیز مواد موجود ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو بارودی سرنگوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، جہاں چار دہائیوں پر محیط جنگوں اور خانہ جنگی کے نتیجے میں ہزاروں ایسے مواد آج بھی انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

