ڈھاکہ – بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی بڑی کچی آبادیوں میں سے ایک میں منگل کی شام شدید آگ بھڑک اٹھی، جس نے ٹین کی چھتوں والی جھونپڑیوں کی قطاروں کو جلا کر راکھ کر دیا اور ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا۔ آگ کوریل کی بستی میں غروبِ آفتاب کے فوراً بعد لگی، جو دارالحکومت کی سب سے بڑی اور گنجان آباد بستیوں میں شمار ہوتی ہے۔
تقریباً 80 ہزار نفوس پر مشتمل یہ علاقہ گلشن اور بنانی جیسے پوش محلوں کے درمیان واقع ہے۔ آگ بھڑکنے کے بعد بلند شعلوں اور گھنے دھوئیں نے علاقے کو گھیر لیا جبکہ گھبراہٹ کے عالم میں لوگ اپنے پاس موجود قیمتی سامان سمیٹ کر نکلتے دکھائی دیے۔
فائر سروس کے اہلکار طلحہ بن زسیم کے مطابق آگ بجھانے کے لیے کم از کم 19 فائر انجن روانہ کیے گئے، تاہم شدید ٹریفک اور کچی آبادی کی تنگ گلیوں نے ریسکیو کارروائی کو سست کر دیا۔ فائر فائٹرز نے محدود جگہ کے باعث ہوز طویل فاصلوں تک گھسیٹتے ہوئے پانچ گھنٹے سے زائد جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا۔
آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ حکام کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم رہائشیوں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ متاثرہ خاتون آمنہ بیگم نے اپنے جلے ہوئے گھر کے ملبے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ ان کا سب کچھ جل کر ختم ہو گیا ہے اور اب ان کی زندگی دوبارہ کیسے بحال ہوگی، یہ ایک بڑا سوال ہے۔
بنگلادیش میں حالیہ برسوں کے دوران بڑے شہری علاقوں میں آتش زدگی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جن کی بنیادی وجہ کمزور حفاظتی ضابطے اور ان پر عمل درآمد کا فقدان بتایا جاتا ہے۔

