واشنگٹن – امریکی کوسٹ گارڈ نے وینزویلا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایک اور تیل بردار بحری جہاز ’’بیلا 1‘‘ کو قبضے میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ جہاز پاناما کے جھنڈے تلے روانہ تھا اور امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔
یہ کارروائی اس ہفتے کی صبح انجام دی گئی، جو گزشتہ چند ہفتوں میں امریکی انتظامیہ کی تیل بردار جہازوں کے خلاف تیسری کارروائی ہے۔ 10 دسمبر کو امریکی اہلکاروں نے ’’سکیپر‘‘ اور حال ہی میں ’’سنچریز‘‘ نامی بحری جہاز قبضے میں لیے تھے۔ وائٹ ہاؤس نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر دباؤ بڑھا رہے ہیں تاکہ حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ یعنی تیل کا راستہ روکا جا سکے۔ اس اقدام سے وینزویلا کے تیل کے ذخائر بھر سکتے ہیں اور سرکاری تیل کمپنی PDVSA کو کنویں بند کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
وینزویلا کی نائب صدر اور وزیرِ پیٹرولیم ڈیلیسی روڈریگز نے امریکی کارروائی کو "چوری اور اغوا” قرار دیتے ہوئے اسے سمندری قزاقی کے مترادف قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے مادورو حکومت کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور ان پر منشیات کی سمگلنگ کے الزامات عائد کیے ہیں، جس کے پیش نظر پابندیوں اور بحری کارروائیوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔
