ہاکی اولمپئنز کا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے قومی کھیل کو بچانے کا مطالبہ
کراچی – پاکستان کے نامور ہاکی اولمپئنز اور سابق قومی کپتانوں نے وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر سے قومی کھیل ہاکی کو زوال سے بچانے کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا ہے۔
کراچی پریس کلب میں ہونے والی ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہاکی اولمپئنز نے الزام عائد کیا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) پر ایسے عناصر قابض ہیں جنہیں باضابطہ طور پر بدعنوان قرار دیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ہاکی کو تباہی سے بچانے کے لیے ان عناصر کے خلاف درست سمت میں تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دی جائے۔
رکن قومی اسمبلی سیدہ شہلا رضا اور ہاکی اولمپئنز نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ پی ایچ ایف پر فوری طور پر ایڈہاک کمیٹی قائم کی جائے اور صاف و شفاف انداز میں انتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ فیڈریشن کے تحت ہونے والے کسی بھی انتخابی عمل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف ہر قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
شرکاء نے الزام لگایا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے یوٹرن لیتے ہوئے ہاکی فیڈریشن کو ہی انتخابات کرانے کی ذمہ داری دے دی، حالانکہ پورٹل کے ذریعے کلب رجسٹریشن کو مسترد کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایس بی کی یہ پالیسی قومی کھیل کے لیے نقصان دہ ہے۔
سیدہ شہلا رضا نے بتایا کہ 2022 میں وزیراعظم کی ہدایت پر ہاکی فیڈریشن کے مالی معاملات کی تحقیقات کے لیے دو کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ اس وقت کے چیئرمین سینیٹ ایاز صادق کی نگرانی میں کام کرنے والی کمیٹی نے 500 پیراز کی نشاندہی کی، جن میں سے 113 پیراز کو تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کو بھجوانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے دور میں طارق میسوری بگٹی کو پی ایچ ایف کا ایڈہاک صدر مقرر کیا گیا، جنہیں انتخابات کرانے اور مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مینڈیٹ دیا گیا تھا، مگر یہ عمل مکمل نہ ہو سکا۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ:
-
16 دسمبر 2025 کو پی ایس بی نے ہاکی فیڈریشن کو انتخابی عمل روکنے کا حکم دیا
-
6 جنوری 2026 کو اچانک پورٹل کے ذریعے کلب رجسٹریشن اور اسکروٹنی کا اعلان کر دیا گیا
-
22 جنوری تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی گئی
شرکاء نے سوال اٹھایا کہ اگر فیڈریشن کو ہی انتخابات کرانے تھے تو اسٹینڈنگ کمیٹی، الیکشن کمیشن اور پی ایس بی اجلاسوں کی کیا ضرورت تھی۔
سابق قومی کپتان اولمپئن ناصر علی نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں اور انہوں نے کور کمانڈر کراچی کو ہاکی کے حوالے سے ہدایات بھی دی ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ کو عہدے سے ہٹایا جائے۔
اولمپئن سمیع اللہ خان نے کھلاڑیوں کے بنیادی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ڈیلی الاؤنس کی عدم ادائیگی کے باعث کھلاڑی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
اولمپئن حنیف خان نے کہا کہ اگر حکومت واقعی اہل ہوتی تو آج بدعنوان عناصر ہاکی فیڈریشن کے عہدوں پر موجود نہ ہوتے۔
شرکاء نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ:
-
پی ایچ ایف پر فوری ایڈہاک کمیٹی قائم کی جائے
-
نگران سربراہ کسی باکردار اور اچھی شہرت والے سابق کھلاڑی کو بنایا جائے
-
قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے
پریس کانفرنس میں سمیع اللہ خان، کلیم اللہ خان، حنیف خان، ایاز محمود، ناصر علی، افتخار سید، حیدر حسین، پرویز اقبال اور دیگر ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔