آسٹریلیا: 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کے 47 لاکھ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند

0

سڈنی – آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے نفاذ کے بعد، سوشل میڈیا کمپنیوں نے ملک بھر میں تقریباً 47 لاکھ اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں۔ یہ اقدام دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی پابندی کے نفاذ کے صرف ایک ماہ کے اندر سامنے آیا ہے، جو اس قانون کے فوری اور وسیع اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔

العربیہ اردو کے مطابق آسٹریلیا کے انٹرنیٹ پر تحفظ فراہم کرنے والے ادارے ای سیفٹی کمشن نے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے 10 دسمبر 2025 کو نافذ ہونے والے قانون کی تعمیل کرتے ہوئے اب تک 16 سال سے کم عمر صارفین کے تقریباً 4.7 ملین اکاؤنٹس ہٹا دیے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے پابندی کے باضابطہ نفاذ سے چند ہفتے قبل ہی ایسے اکاؤنٹس کو بند کرنا شروع کر دیا تھا جو قانون کی شرائط پر پورا نہیں اترتے تھے۔

یہ اعداد و شمار اس قانون پر عملدرآمد کے حوالے سے پہلا سرکاری ڈیٹا ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کمپنیاں پابندی پر مؤثر انداز میں عمل کر رہی ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کو 49.5 ملین آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 33 ملین امریکی ڈالر) تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم اس قانون کے تحت بچوں یا ان کے والدین کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

واضح رہے کہ بند کیے گئے اکاؤنٹس کی تعداد آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر پابندی سے قبل لگائے گئے سرکاری اندازوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس سے قبل میٹا نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے انسٹاگرام، فیس بک اور تھریڈز سے تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار نابالغ صارفین کے اکاؤنٹس ہٹا دیے ہیں۔

یہ اقدام بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے آسٹریلوی حکومت کی سخت پالیسی کا عکاس قرار دیا جا رہا ہے، جسے دیگر ممالک بھی بغور دیکھ رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.