ٹرمپ میڈیا کا دی گارڈین کے خلاف ہتکِ عزت مقدمہ واپس، عدالت میں قانونی جنگ ختم

Trump Media's defamation lawsuit against The Guardian is withdrawn, ending legal battle in court

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ (TMTG) نے برطانوی اخبار دی گارڈین اور دیگر مدعا علیہان کے خلاف دائر کیا گیا ہتکِ عزت کا مقدمہ واپس لے لیا ہے، جس کے بعد یہ ہائی پروفائل قانونی تنازع عارضی طور پر ختم ہو گیا ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق کمپنی نے مقدمہ "بغیر کسی تعصب کے” (without prejudice) واپس لیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مستقبل میں اسی نوعیت کا کیس دوبارہ دائر کر سکتی ہے۔

مقدمہ کس بارے میں تھا؟

یہ مقدمہ اس رپورٹ کے بعد دائر کیا گیا تھا جس میں دی گارڈین نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی پراسیکیوٹرز ٹرمپ میڈیا گروپ کی ممکنہ مالی بے ضابطگیوں، بشمول روسی کمپنیوں سے مبینہ تعلق اور مشتبہ مالی ادائیگیوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

TMTG نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ رپورٹ نے کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور اسے جان بوجھ کر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔

عدالت میں ابتدائی پیش رفت

کیس کی ابتدائی سماعت میں وفاقی جج نے قرار دیا تھا کہ TMTG یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ دی گارڈین نے رپورٹنگ میں "حقیقی بدنیتی” (actual malice) کا مظاہرہ کیا۔ امریکی قانون کے تحت کسی عوامی شخصیت یا ادارے کے لیے ہتکِ عزت ثابت کرنے کے لیے یہ عنصر بنیادی شرط ہوتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ اخبار نے رپورٹ شائع کرنے سے قبل ٹرمپ گروپ سے مؤقف لینے کی کوشش کی اور اس کی تردید کو بھی شامل کیا، جس سے صحافتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے۔

کیس واپس لینے کا فیصلہ

عدالتی ریکارڈ کے مطابق منگل کو ہونے والی سماعت سے قبل ہی TMTG نے مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ دستاویز میں اس فیصلے کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی۔

تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے فیصلے اکثر اس وقت کیے جاتے ہیں جب:

  • کیس میں کامیابی کے امکانات کم ہوں
  • یا مزید قانونی اخراجات اور رسوائی سے بچنا مقصود ہو

دی گارڈین کا ردعمل

دی گارڈین کے ترجمان نے مقدمہ واپس لیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی رپورٹنگ مستند ذرائع، دستاویزات اور سخت فیکٹ چیکنگ پر مبنی تھی۔ ترجمان کے مطابق ٹرمپ میڈیا کے الزامات ابتدا سے ہی بے بنیاد تھے۔

ٹرمپ اور میڈیا اداروں کے درمیان کشیدگی

یہ مقدمہ ٹرمپ اور بڑے میڈیا اداروں کے درمیان جاری کشیدگی کا حصہ تھا۔ ٹرمپ اپنی صدارت اور سیاسی کیریئر کے دوران متعدد میڈیا اداروں کے خلاف قانونی کارروائیاں کرتے رہے ہیں، جن میں نیویارک ٹائمز اور BBC بھی شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی قانونی حکمت عملی کا مقصد اکثر میڈیا کی تنقیدی رپورٹنگ کو چیلنج کرنا اور سیاسی بیانیے کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، تاہم امریکی عدالتوں میں آزادیٔ صحافت اور “actual malice” کے سخت معیار کی وجہ سے ایسے مقدمات عموماً مشکل ثابت ہوتے ہیں۔

TMTG کی جانب سے مقدمے کی واپسی نے اس کیس کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے، تاہم قانونی دستاویز کے مطابق یہ تنازع مستقبل میں دوبارہ بھی سامنے آ سکتا ہے، جس کا انحصار کمپنی کے آئندہ فیصلے پر ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے