دبئی/بیجنگ — خلیجی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کے باوجود پابندیوں کی فہرست میں شامل ایک چینی آئل ٹینکر کے گزرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس نے خطے میں جاری بحری نگرانی اور پابندیوں کی مؤثریت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ آئل و کیمیکل بردار جہاز ایک ایسی چینی شپنگ کمپنی سے منسلک ہے جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔ میرین ٹریفک کے ڈیٹا کے مطابق جہاز پیر کی رات آبنائے کے قریب چکر لگاتا رہا اور بعد ازاں منگل کی صبح اس اہم گزرگاہ سے گزرنے میں کامیاب ہو گیا۔
سفر کی تفصیلات
رپورٹس کے مطابق:
- ٹینکر شارجہ سے روانہ ہوا
- اس وقت چین کی جانب سفر کر رہا ہے
- امریکی نگرانی کے باوجود اس کی نقل و حرکت جاری رہی
مشکوک سرگرمیاں اور AIS ڈیٹا
اسی دوران ایک اور ٹینکر، جو ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرہ سے روانہ ہوا، وہ بھی آبنائے ہرمز میں دیکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس جہاز نے اپنے خودکار شناختی نظام (AIS) میں غلط معلومات نشر کیں، جس میں یہ ظاہر کیا گیا کہ وہ سعودی عرب سے سفر کر رہا ہے، حالانکہ اس کی اصل روانگی ایران سے تھی۔
بحری نقل و حرکت چھپانے کے طریقے
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ تنازع کے بعد متعدد بحری جہاز:
- غلط AIS ڈیٹا نشر کر رہے ہیں
- یا اپنے سگنلز مکمل طور پر بند کر دیتے ہیں
- تاکہ ان کی اصل لوکیشن اور راستہ چھپایا جا سکے
