یورپی یونین نے یوکرین کی مالی و دفاعی مدد کے لیے 90 ارب یورو کے بڑے قرض اور روس کے خلاف پابندیوں کے 20ویں پیکج کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ یورپی بلاک کی جانب سے جاری جنگ میں اپنی اسٹریٹجک پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے کی واضح علامت سمجھا جا رہا ہے۔
ابتدائی طور پر اس پیکج کو وکٹر اوربان کی قیادت میں ہنگری نے بلاک کر دیا تھا، تاہم حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد رکاوٹ دور ہوگئی۔ یورپی یونین کے سفیروں کی منظوری کے بعد تحریری طریقہ کار کے ذریعے حتمی فیصلہ کیا گیا، جس میں کسی بھی رکن ملک نے اعتراض نہیں اٹھایا، یوں دونوں اقدامات متفقہ طور پر منظور ہو گئے۔
مالی اور دفاعی حکمت عملی
منظور شدہ منصوبے کے تحت:
- یورپی کمیشن مالیاتی منڈیوں سے قرض لے گا
- یورپی بجٹ کو بطور گارنٹی استعمال کیا جائے گا
- یوکرین کو پہلی قسط اسی سہ ماہی کے اختتام سے قبل جاری کیے جانے کا امکان ہے
مزید برآں، یورپی یونین نے 2026 اور 2027 کے لیے مجموعی طور پر 45 ارب یورو دفاعی اور بجٹ سپورٹ کی مد میں مختص کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
ارسولا وان ڈیر لیین نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اب “دونوں محاذوں پر تیزی سے آگے بڑھے گی”، جبکہ انتونیو کوسٹا نے بھی فیصلے کا خیر مقدم کیا۔
دوسری جانب یورپی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس نے کہا کہ “تعطل ختم ہو چکا ہے”، اور اس اقدام سے یوکرین کو نمایاں تقویت ملے گی جبکہ روس کی جنگی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہوگی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس-یوکرین جنگ جاری ہے اور یورپی یونین مسلسل یوکرین کی عسکری، مالی اور سفارتی حمایت کر رہی ہے۔
یورپی قیادت کا مؤقف ہے کہ یہ امداد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک روس اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا اور جنگ کے خاتمے کی طرف پیش رفت نہیں ہوتی۔
