متحدہ عرب امارات کے زیر اہتمام 300 فلسطینی جوڑوں کی اجتماعی شادی

UAE organizes mass wedding of 300 Palestinian couples

غزہ: جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی میں امید اور خوشی کی ایک منفرد جھلک دیکھنے کو ملی، جہاں متحدہ عرب امارات کے انسانی ہمدردی کے مشن کے تحت 300 فلسطینی جوڑوں کی اجتماعی شادی کا اہتمام کیا گیا۔

یہ تقریب دیر البلح میں منعقد ہوئی، جسے آپریشن Chivalrous Knight 3 کے تحت منظم کیا گیا۔ تقریب کے دوران ایک بڑا بینر آویزاں کیا گیا جس پر لکھا تھا: “غزہ خوشی کا مستحق ہے” — ایک ایسا پیغام جو جنگ اور تباہی کے درمیان زندگی کی بحالی کی علامت بن گیا۔

تقریب میں شریک دلہا اور دلہن روایتی فلسطینی لباس میں ملبوس تھے، جبکہ اسٹیج کو قومی پرچموں اور ثقافتی علامات سے سجایا گیا تھا۔ خوشی کے اس موقع پر موسیقی، رقص اور روایتی رسومات کے ذریعے جشن منایا گیا، اور تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان بھی زندگی کی بحالی کا واضح پیغام دیا گیا۔

متحدہ عرب امارات کے مشن کے سربراہ علی الشاہی نے اس موقع پر کہا کہ یہ تقریب صرف ایک شادی نہیں بلکہ فلسطینی عوام کے عزم، حوصلے اور زندگی سے جڑے رہنے کی علامت ہے۔ ان کے مطابق “ہم غزہ میں تکلیف ضرور دیکھتے ہیں، لیکن اس سے بڑھ کر ہم یہاں کے لوگوں کا ناقابلِ شکست حوصلہ دیکھتے ہیں جو ہر مشکل کے باوجود خوشی تخلیق کرتے ہیں۔”

یہ اجتماعی شادی ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے اور ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ، صحت اور صفائی کے نظام شدید متاثر ہیں، تاہم اس تقریب نے واضح کیا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود زندگی کا سفر جاری ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ متحدہ عرب امارات کے زیر اہتمام غزہ میں دوسری بڑی اجتماعی شادی ہے۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ایک تقریب میں درجنوں جوڑوں کی شادی کروائی گئی تھی، جس کا مقصد جنگ سے متاثرہ نوجوانوں کو نئی زندگی کا آغاز کرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے