ایران کے سپریم لیڈر کے طور پر پیش کیے جانے والے مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ خلیج فارس کا مستقبل امریکا کی موجودگی کے بغیر زیادہ مستحکم اور روشن ہوگا، جبکہ خطے کے ممالک کا مقدر آپس میں جڑا ہوا ہے۔
قومی یومِ خلیج فارس کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک “نئے باب” کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد ایران اس اہم آبی گزرگاہ کے لیے نئے انتظامی اصول متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد خطے کی سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور اب ایک نئے مرحلے کی تشکیل ہو رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس نئے نظام کے تحت آبی راستوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی اور دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز نہ صرف تہذیبی شناخت کا حصہ ہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ بھی ہیں، جہاں سے توانائی کی بڑی مقدار دنیا بھر میں منتقل ہوتی ہے۔
انہوں نے مغربی طاقتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ماضی میں یورپی اور امریکی مداخلت نے خطے میں عدم استحکام کو جنم دیا، جبکہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیاں اسی تسلسل کی کڑی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے میں غیر ملکی افواج کے لیے کوئی جگہ نہیں اور مقامی ممالک کو خود اپنی سیکیورٹی کا نظام سنبھالنا ہوگا۔
