سعودی عرب نے موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی ثالثی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے فریقین سے تحمل اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کی ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز میں معمول کے مطابق بحری آمدورفت کی بحالی نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی سپلائی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک کلیدی گزرگاہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے میں استحکام کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
ادھر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے متحدہ عرب امارات کے صدر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں ایران کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملے کی مذمت کی گئی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
