عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مذاکراتی عمل میں پیشرفت ہوئی ہے، جبکہ انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں فوجی حل کو مسترد کر دیا۔
اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ واقعات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ کسی بھی سیاسی بحران کا پائیدار حل عسکری کارروائیوں میں نہیں، بلکہ مذاکرات میں ہے۔ انہوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ وہ ایسے عناصر سے محتاط رہے جو اسے دوبارہ کسی طویل اور پیچیدہ جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات کو بھی احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اعلان کردہ “پروجیکٹ فریڈم” درحقیقت خطے میں تعطل اور کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے، نہ کہ اسے کم کرے۔
