بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی سربراہ Kristalina Georgieva نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جاری جنگ 2027 تک طول پکڑتی ہے تو عالمی معیشت کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں معاشی سست روی، مہنگائی میں تیز اضافہ اور توانائی بحران شامل ہو سکتے ہیں۔
اپنے تازہ بیان میں جارجیوا نے کہا کہ اس سے قبل آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات محدود ہوں گے اور عالمی ترقی کی رفتار میں معمولی کمی کے ساتھ قیمتوں میں ہلکا اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ تاہم موجودہ حالات نے ان ابتدائی تخمینوں کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہتا ہے اور خام تیل کی قیمت تقریباً 125 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے اور وسیع ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں توانائی کی لاگت میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی بڑھ سکتی ہے جبکہ ترقی پذیر معیشتوں پر اس کا بوجھ زیادہ پڑے گا۔
آئی ایم ایف سربراہ کے مطابق طویل جنگ عالمی سپلائی چین کو بھی متاثر کرے گی، خاص طور پر ایسی صورت میں جب Strait of Hormuz جیسے اہم بحری راستے غیر محفوظ ہو جائیں، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں مسلسل بلند رہیں تو نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہوگی بلکہ عالمی تجارت کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا، جس سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں معیشتیں دباؤ میں آ سکتی ہیں۔
جارجیوا نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرے تاکہ ایک بڑے معاشی بحران سے بچا جا سکے۔
