امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے خلاف سخت ترین مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے امریکی بحری جہازوں یا "پراجیکٹ فریڈم” کے تحت جاری آپریشنز میں کسی قسم کی مداخلت کی تو اسے “دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا”، یہ بیان انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے Fox News کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دیا۔
صدر ٹرمپ نے خطے میں امریکی فوجی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنی عسکری موجودگی کو مزید مستحکم کر رہا ہے اور اس کے تمام فوجی اڈے مکمل طور پر فعال اور تیار ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کے پاس دنیا کا جدید ترین اسلحہ موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب Islamic Revolutionary Guard Corps کی جانب سے Strait of Hormuz میں امریکی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی، تاہم ٹرمپ کے سخت لہجے نے اس امکان کو تقویت دی ہے کہ خطے میں کشیدگی حقیقی سطح پر بڑھ چکی ہے۔
ٹرمپ نے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور ایرانی قیادت کا رویہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ لچکدار ہوا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ عسکری اقدام کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو “بڑی حد تک تباہ” کر دیا گیا ہے اور اب اس کے پاس مؤثر بحریہ، فضائیہ یا جدید ریڈار سسٹم موجود نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے سمندر میں 150 سے زائد ایرانی جہاز ڈبو دیے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا، جبکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ جنگ کے حامی نہیں اور تنازع کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی کی توقع رکھتے ہیں۔
اپنے بیان کے دوران انہوں نے چین کے حوالے سے بھی بات کی اور چینی قیادت سے ملاقات کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ممکنہ دورہ چین انتہائی اہم ہو سکتا ہے۔ داخلی محاذ پر انہوں نے امریکی سپریم کورٹ کے ٹیرف سے متعلق فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “غیر مؤثر” قرار دیا۔
