امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تہران کو واشنگٹن کی جانب سے ایک نئی جامع تجویز موصول ہوئی ہے اور اس پر باضابطہ ردعمل آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز میں مجموعی طور پر 14 نکات شامل ہیں، جن کا محور ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری صورتحال بتایا جا رہا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق ایران اس تجویز کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے اور امکان ہے کہ تہران اپنا جواب آج ہی پیش کرے گا۔
امریکی تجویز کے اہم نکات
رپورٹس کے مطابق امریکی منصوبے میں ایران سے درج ذیل اہم وعدے اور اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے:
- ایران کا باضابطہ طور پر اس بات کا اعلان کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا
- فوردو، نطنز اور اصفہان سمیت حساس جوہری تنصیبات کو بند یا غیر فعال کرنے کی شرط
- یورینیم کی افزودگی کو 20 سال کے لیے منجمد کرنے کی تجویز
- تقریباً 400 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی منتقلی
- بعض پابندیوں میں نرمی اور ایرانی بندرگاہوں پر بحری دباؤ میں کمی
- آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیوں کے خاتمے کا امکان
تجزیاتی رپورٹس کے مطابق یورینیم کی منتقلی کے حوالے سے یہ واضح نہیں کہ اسے کون سا ملک یا ادارہ وصول کرے گا، تاہم روس کا نام پہلے ممکنہ فریق کے طور پر سامنے آیا ہے۔
