غزہ پر بننے والی دستاویزی فلم نے بافٹا ایوارڈ جیت لیا، بی بی سی پر سنسر شپ کے الزامات

Gaza documentary wins BAFTA award, BBC accused of censorship

غزہ: ڈاکٹرز انڈر اٹیک نے بافٹا ایوارڈز جیت لیا، جس کے بعد فلم سازوں نے بی بی سی پر سنسر شپ کے الزامات عائد کر دیے۔

یہ دستاویزی فلم غزہ میں اسرائیلی حملوں، اسپتالوں کی تباہی اور فلسطینی طبی عملے کی ہلاکتوں پر مبنی ہے۔

ایوارڈ وصول کرتے ہوئے فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر بین دی پیئر نے کہا کہ بی بی سی نے فلم کی فنڈنگ کے باوجود اسے نشر کرنے سے انکار کیا۔

انہوں نے تقریب کے دوران طنزیہ انداز میں کہا، “بی بی سی نے ہماری فلم چھوڑ دی، کیا اب وہ ہمیں بافٹا اسکریننگ سے بھی نکال دے گا؟”

صحافی رمیتا ناوائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ وہ حقائق ہیں جن کی تحقیقات کے لیے بی بی سی نے مالی معاونت فراہم کی، لیکن بعد میں فلم نشر نہ کر کے سنسر شپ کی گئی۔

فلم سازوں نے غزہ میں موجود صحافیوں کی بہادری کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ زمینی حقائق ریکارڈ کرنے والے صحافی مسلسل خطرات میں کام کر رہے ہیں۔

غزہ: ڈاکٹرز انڈر اٹیک میں فلسطینی ڈاکٹروں اور طبی کارکنوں کے عینی شاہد بیانات شامل ہیں۔ فلم سازوں کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 1700 سے زائد فلسطینی ڈاکٹرز اور طبی کارکن جاں بحق جبکہ 400 سے زیادہ گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب بی بی سی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلم نشر کرنے سے جانبداری کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، جو ادارے کے صحافتی اصولوں کے خلاف ہے، تاہم بعد میں یہ فلم ایک برطانوی چینل پر نشر کی گئی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے