لندن اور پیرس کی مشترکہ میزبانی میں آج آبنائے ہرمز کی صورتحال پر 40 سے زائد ممالک کا اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس میں عالمی بحری تجارت کی بحالی اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے ممکنہ فوجی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
برطانوی حکومت کے مطابق اجلاس میں ایسے عملی منصوبوں کا جائزہ لیا جائے گا جن کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔ مختلف ممالک کی جانب سے بارودی سرنگوں کی صفائی، بحری جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے اور فضائی نگرانی کے نظام سے متعلق تجاویز پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے برطانیہ اور فرانس کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے اطراف جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی کو اشتعال انگیز اقدام تصور کیا جائے گا اور اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر خودمختاری اور قانونی انتظامات طے کرنا ایران کا حق ہے، جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ خطے میں کسی بھی غیر ضروری عسکری موجودگی سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ بندی اور امن مذاکرات سے متعلق پیش کردہ تجاویز کو “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق تہران نے امریکا سے جنگی نقصانات کے ازالے، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری خطے کی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی اور بحری تجارت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
