دنیا بھر سے آئے لاکھوں مسلمان آج حج کا اہم ترین رکن، وقوفِ عرفہ ادا کریں گے، جہاں حجاج کرام میدانِ عرفات میں عبادات، دعاؤں اور توبہ و استغفار میں مصروف ہوں گے۔
عازمینِ حج قافلوں کی صورت میں مکہ مکرمہ سے منیٰ پہنچے، جہاں انہوں نے نمازِ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء ادا کیں۔ منیٰ میں قیام کے دوران حجاج کرام نے اپنا زیادہ تر وقت عبادات، ذکر و اذکار اور تلاوتِ قرآن پاک میں گزارا۔
شدید گرمی کے پیش نظر سعودی عرب کی انتظامیہ نے حجاج کرام کے تحفظ اور سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ مختلف مقامات پر ٹھنڈے پانی، سایہ دار مقامات، طبی مراکز اور ہنگامی امدادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مسلسل پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا جاتا رہا تاکہ گرمی کی شدت کم کی جا سکے۔
حکام کے مطابق دنیا بھر سے آنے والے تقریباً 18 لاکھ عازمین منیٰ پہنچ چکے ہیں، جبکہ آج بڑے قافلے میدانِ عرفات روانہ ہوں گے، جہاں حج کا رکنِ اعظم ادا کیا جائے گا۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق وقوفِ عرفہ حج کا سب سے اہم مرحلہ تصور کیا جاتا ہے، اور اسی دن لاکھوں مسلمان اللہ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعائیں، استغفار اور عبادات کرتے ہیں۔
