ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام کا ذمے دار اسرائیل کو قرار دیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق صدر پزشکیان نے امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی صورت “ذلت آمیز سفارتکاری” قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ دنیا کی طاقتور ترین قوتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہنے کی قیمت اور مشکلات کیا ہوتی ہیں، تاہم قومی مفادات اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ جنگ اور کشیدگی کے نتائج کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ تصور غلط ہے کہ کسی تنازع کے بعد حالات دوبارہ مکمل طور پر پہلے جیسے ہو جائیں گے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام، پابندیوں اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں۔
