وفاقی آئینی عدالت نے نئی گاج ڈیم کی تعمیر ہونے تک ملک بھر کی عدالتوں کو مداخلت کرنے سے روک دیا۔
کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ جو بھی تنازعات ہوں وہ ڈیم تعمیر معاہدے میں درج طریقہ کار کے مطابق حل کئے جائیں۔ عدالت نے ہائیکورٹ کے فیصلے اور احکامات کالعدم قرار دے دیئے۔
عدالت نے نئی گاج ڈیم تعمیر میں ہائیکورٹ کے فیصلے اور احکامات کو کالعدم قرار دے دیا،22 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا۔ فیصلے کے مطابق ہائی کورٹ نے قانون کو مد نظر رکھے بغیر غلط ہدایات جاری کیں، ہائیکورٹ احکامات میں تنازعات کے حل ،واپڈا اور نیب قوانین کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔
فیصلے کے مطابق آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کو دوبارہ لکھنے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا، آئینی حدود سے تجاوز کے نتیجے میں انصاف کی کھلی خرابی ہوتی ہے، توقع ہے کہ فریق اصل معاہدے کے مطابق آگے بڑھیں گے۔
وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ کنٹریکٹر کی شکایت موصول ہونے کے بعد پندرہ روز میں واپڈا فیصلہ کرے، کنڑیکٹر کی جانب سے معاہدہ کی خلاف ورزی پر واپڈا دوبارہ ٹینڈر کرنے کیلئے آزاد ہوگا۔
