امریکا نے عراق کو مکمل تباہ کر کے “بہت بڑی غلطی” کی تھی، ٹرمپ

Trump announces 10-day ceasefire between Israel and Hezbollah, effective midnight

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں امریکا مضبوط پوزیشن میں ہے اور واشنگٹن ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا جو امریکی مفادات کے خلاف ہو۔

امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی “انتہائی چالاک اور ماہر مذاکرات کار” ہیں، تاہم آخرکار تمام اہم طاقت اور برتری امریکا کے پاس ہے کیونکہ امریکا نے ایران کو عسکری طور پر شکست دی ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایرانی بحریہ اور فضائیہ کو تباہ کر دیا، تاہم ایرانی فوج کو مکمل طور پر نشانہ نہیں بنایا گیا کیونکہ ان کے بقول فوج نسبتاً “معتدل” تھی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دیگر عناصر ایسے تھے جو معتدل نہیں تھے اور انہیں ختم کر دیا گیا۔

امریکی صدر نے ماضی کی جنگی پالیسیوں پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے عراق کو مکمل تباہ کر کے “بہت بڑی غلطی” کی تھی اور واشنگٹن کو عراق جنگ میں نہیں جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق ایران کے معاملے میں بھی جنگ مناسب راستہ نہیں تھا، لیکن ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت موجود تھی جسے امریکا نے ختم کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگوں میں اکثر ایسی غلطیاں ہوتی ہیں جن کے نتیجے میں ممالک کئی دہائیوں تک دوبارہ مستحکم نہیں ہو پاتے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے