امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کا جدید زیرِ آب ڈرونز تیار کرنے کا مشترکہ منصوبہ، 2027 تک آپریشنل بنانے کا ہدف

امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے سمندری سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جدید زیرِ آب ڈرونز (Underwater Drones) تیار کرنے کے مشترکہ منصوبے کا اعلان کر دیا ہے، جنہیں 2027 تک عملی استعمال کے لیے تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کا اعلان سنگاپور میں منعقدہ ایک اہم سکیورٹی کانفرنس کے دوران کیا گیا۔ یہ پروگرام تینوں ممالک کے دفاعی اتحاد "آکَس” (AUKUS) کے تحت شروع کیا جا رہا ہے، جس کا قیام 2021 میں خطے میں دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے عمل میں آیا تھا۔

منصوبے کا بنیادی مقصد زیرِ سمندر موجود اہم مواصلاتی کیبلز، گیس اور تیل کی پائپ لائنز، بجلی کی ترسیلی تنصیبات اور دیگر حساس انفراسٹرکچر کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی انٹرنیٹ، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی مواصلاتی نظام کا بڑا حصہ انہی زیرِ سمندر تنصیبات پر انحصار کرتا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع John Healey نے اس موقع پر کہا کہ جدید دفاعی ماحول میں ممالک کو نئی ٹیکنالوجیز اور مضبوط اتحادی شراکت داریوں کے ذریعے اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق یہ نئی صلاحیتیں نہ صرف برطانیہ کی دفاعی تیاریوں کو بہتر بنائیں گی بلکہ دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی ترقی کا باعث بنیں گی۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ پہلے ہی 2025 میں "اٹلانٹک باسٹیون” پروگرام کا آغاز کر چکا ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت، خودکار بحری جہاز، جنگی بحری بیڑے اور فضائی نگرانی کے نظام کو یکجا کر کے زیرِ سمندر انفراسٹرکچر کی حفاظت کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات روسی آبدوزوں اور سمندری سرگرمیوں میں اضافے کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں زیرِ سمندر کیبلز اور پائپ لائنز کو نقصان پہنچانے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد مغربی ممالک نے بعض غیر ملکی بحری سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے