خیبر پختونخوا کے موجودہ اور سابق وزرائے اعلیٰ آمنے سامنے آگئے۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکمران پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے پیدا ہونے والے اختلافات اب دو بڑوں کے درمیان کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی وٹس ایپ گروپ میں وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی کے بعض پیغامات پر جن میں کسی کا نام لئے بغیر مختلف الزامات لگائے گئے تھے کا علی امین نے سخت نوٹس لیا۔
سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے وزیراعلیٰ کے دعووں پر سوال اور کہا کہ اس کا، اس کی، تم نام کیوں نہیں لیتے؟ اگر کوئی بانی چیئرمین کے خلاف سازش کر رہا ہے تو نام لیا جائے۔
علی امین گنڈاپور نے طنز کے نشتر چلائے کہ اپنا صوبہ آپ سے کنٹرول نہیں ہوتا اور دوسروں پر الزام لگا رہے ہیں۔پارٹی رہنماؤں میں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا درست نہیں۔علی امین نے کہا کہ ہم پہلے بھی بانی چیئرمین کے ساتھ تھے اور آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
