منیٰ: پاکستان حج مشن کے خادم الحجاج اور ’’حرم گائیڈز‘‘ ٹیم نے فرض شناسی، دیانت داری اور ذمہ داری کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے دو مختلف واقعات میں گمشدہ نقد رقم، قیمتی موبائل فونز اور اہم دستاویزات اصل مالکان تک بحفاظت پہنچا دیں۔
پہلا واقعہ 29 مئی 2026 کو پیش آیا جب منیٰ کے مکتب 4 میں تعینات اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر مکتب صدام العابدین کو دورانِ ڈیوٹی ایک لاوارث براؤن بیگ ملا۔ بیگ کی جانچ پڑتال کیمپ انچارج اعلیٰ سمیع، قاری عبداللہ اور سجاد کی موجودگی میں کی گئی۔
بیگ سے 10,160 سعودی ریال، 42,350 پاکستانی روپے، ایک Apple iPhone، نسک کارڈ اور حاجی کا شناختی کارڈ برآمد ہوا۔ مجموعی طور پر برآمد ہونے والی رقم اور اشیاء کی مالیت ساڑھے سات لاکھ پاکستانی روپے سے زائد بنتی ہے۔
دستاویزات کی مدد سے بیگ کے مالک کی شناخت عبداللہ مہر کے نام سے ہوئی، جو بلڈنگ نمبر 924 کے کمرہ نمبر 401 میں مقیم تھے۔ پاکستان حج مشن کے عملے نے دو روز تک مسلسل کوششوں کے بعد حاجی تک رسائی حاصل کی اور تمام نقدی، موبائل فون اور دستاویزات مکمل تصدیق کے بعد ان کے حوالے کر دیں۔
دوسرے واقعے میں ’’حرم گائیڈ‘‘ ٹیم کو منیٰ میں ایک اور گمشدہ بیگ ملا جس میں ایک قیمتی موبائل فون اور اہم سفری کارڈز موجود تھے۔ یہ بیگ ایک حاجی وضو کے دوران بھول گئے تھے، جس کے باعث وہ کئی گھنٹوں تک پریشانی میں مبتلا رہے۔
حرم گائیڈ ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ حاجی کو تلاش کیا اور ان کی تمام اشیاء بحفاظت واپس کر دیں۔ امانت واپس ملنے پر حاجی نے پاکستان حج مشن اور حرم گائیڈ ٹیم کی دیانت داری، مخلصانہ خدمات اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو بھرپور انداز میں سراہا۔
