امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر لبنان کے صدر جوزف عون درخواست کریں تو وہ حزب اللہ کے نمائندوں سے بھی بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اظہار وائٹ ہاؤس میں لبنانی صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ مختلف فریقوں سے مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اور ماضی میں بھی ایسے افراد سے بات چیت کی ہے جن سے عام طور پر رابطہ نہیں کیا جاتا۔ ان کے بقول، اگر لبنانی صدر چاہیں تو وہ حزب اللہ کے ساتھ بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
صدر ٹرمپ نے لبنان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کئی دہائیوں سے عدم استحکام کا شکار رہا ہے، تاہم امریکہ اب لبنان کی بھرپور مدد کرے گا اور اس کے ساتھ احترام پر مبنی تعلقات استوار کیے جائیں گے۔
انہوں نے ایران سے متعلق گفتگو میں کہا کہ تہران دوبارہ مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم امریکہ اس وقت تک کسی نئی بات چیت میں دلچسپی نہیں رکھتا جب تک ایران بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہ ہو۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں پر امریکہ مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ضرورت پڑی تو نطنز کے قریب واقع "پکیکس ماؤنٹین” (Pickaxe Mountain) کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ امریکی ثالثی میں ہونے والے فریم ورک معاہدے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کا بنیادی مقصد اسرائیل کے ساتھ دشمنی کا مستقل خاتمہ اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کا قیام ہے۔
حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے پر وہ لبنانی صدر کے ساتھ نجی سطح پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ان کے مطابق امریکہ اور لبنان کے درمیان اس حوالے سے پہلے ہی کچھ مضبوط منصوبوں پر کام جاری ہے۔
