آزاد کشمیرعوامی ایکشن کمیٹی کا سنجیدہ مذاکرات کے باوجود احتجاج موخر نہ کرنے کے فیصلے نے سوالات کھڑے کر دیئے

آزاد کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے اعلیٰ سطحی سیاسی وفد کی سنجیدہ کوششوں کے باوجود احتجاج مؤخر نہ کرنے کے فیصلے نے اس کے مذاکراتی عمل سے سنجیدگی کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مسئلے کے حل کے لیے تشکیل دیے گئے اعلیٰ سطحی وفد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، قمر زمان کائرہ، راجہ پرویز اشرف، شاہ غلام قادر، طارق فاروق، وزیراعظم آزاد کشمیر اور چوہدری یٰسین شامل تھے۔ یہ وفد وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں کی نمائندگی کرتا تھا۔

ذرائع کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 35 پہلے ہی تسلیم کیے جا چکے ہیں۔ ایسے میں مذاکرات کو ناکامی قرار دینا حقائق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق اکثریتی مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق باقی رہ جانے والے تین مطالبات نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہیں اور ان کا تعلق مالیاتی پالیسی، آئینی انتظامات اور سیاسی اتفاقِ رائے سے ہے۔ اس لیے انہیں سڑکوں پر دباؤ، الٹی میٹم یا مقررہ ڈیڈ لائنز کے ذریعے حل کرنا ممکن نہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق آزاد کشمیر سالانہ تقریباً 60 ارب روپے کی آمدن پیدا کرتا ہے، جبکہ اس کا مجموعی بجٹ 300 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس فرق کو پورا کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان ہر سال تقریباً 240 سے 250 ارب روپے فراہم کرتی ہے، جس سے ٹیکس اور محصولات سے متعلق فیصلوں میں مالیاتی حقائق کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

ایڈوانس ٹیکس کے خاتمے کے مطالبے کو بھی انہی مالیاتی حقائق کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ محصولات میں کمی سے عوامی خدمات، ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی پروگراموں کے لیے دستیاب وسائل متاثر ہو سکتے ہیں۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے آزاد کشمیر کو فراہم کی جانے والی معاونت صرف بجٹ تک محدود نہیں۔ 1989 سے بے گھر ہونے والے 63 ہزار سے زائد مہاجرین کو براہِ راست وظیفے دیے جا رہے ہیں، جن پر سالانہ تقریباً 15 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔

اشرافیہ کو حاصل مراعات اور سہولتوں کے معاملے پر بھی بات چیت کے دروازے کھلے رکھے گئے۔ وفاقی وفد نے اصلاحات اور مراعات میں معقول کمی کے اقدامات کا جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کی، تاہم اس مقصد کے لیے نعرے بازی کے بجائے قابلِ عمل تجاویز اور منظم مذاکرات کو ضروری قرار دیا گیا۔

12 مہاجر نشستوں کا معاملہ آئینی نوعیت کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے، جسے دباؤ کی سیاست کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نشستیں مقبوضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی نمائندگی کرتی ہیں، اور ان میں کسی بھی تبدیلی کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی طریقہ کار درکار ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے