اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شامل کیے گئے نجی ہسپتالوں میں علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی، یہ اقدام صحت سہولت پروگرام کا حصہ ہے جسے کئی سال کی معطلی کے بعد دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث سرکاری ہسپتالوں پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور موجودہ معاشی صورتحال میں اس رفتار کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کی آبادی ساڑھے 35 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ راولپنڈی، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں سے آنے والے مریضوں کی وجہ سے بھی وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے، جس کے باعث رش اور سہولیات کے معیار سے متعلق شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صحت کے شعبے پر مجموعی طور پر 1156 ارب روپے خرچ کر رہی ہیں لیکن مریضوں کے اطمینان کی شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے، ایک حکومتی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ نجی شعبے کے اشتراک سے 210 ارب روپے میں بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج وقت کی اہم ضرورت ہے اور اگر نجی شعبے کو شامل نہ کیا گیا تو ملک کو طلب پوری کرنے کے لیے پانچ ہزار نئے ہسپتال تعمیر کرنا ہوں گے۔
وزیر صحت نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا ناقص علاج فراہم کرنے والے ہسپتال کو فوری طور پر پروگرام سے خارج کر دیا جائے گا، انہوں نے پروگرام کی بحالی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کو عالمی معیار کے صحت نظام کے قریب لے جانے میں مدد دے گا۔
