غزہ کے لیے امدادی مشن لے جانے والے فلوٹیلا کے کارکنوں کو اسرائیلی حراست سے رہا کر دیا گیا ہے اور انہیں آئندہ مرحلے میں ترکی کے ذریعے ملک بدر کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ فلوٹیلا کے کارکنوں کو جیل سے رہا کرنے کے بعد ترکی منتقل کیا جائے گا، جبکہ یہ عمل جمعرات کو مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کو روک کر متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد کارکنوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک اور انہیں زمین پر بٹھانے سے متعلق ویڈیوز منظر عام پر آئیں، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
اسرائیلی وزیر اتمار بین گویر کے مبینہ طنزیہ رویے اور ویڈیوز نے صورتحال کو مزید متنازع بنا دیا، جس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف ممالک نے تشویش کا اظہار کیا۔
ترکی کے وزیر خارجہ Hakan Fidan نے کہا ہے کہ ترکی اپنے شہریوں سمیت دیگر ممالک کے کارکنوں کی واپسی کے لیے چارٹر پروازیں اسرائیل بھیج رہا ہے تاکہ ان کی محفوظ واپسی یقینی بنائی جا سکے۔
ترک میڈیا کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں 78 ترک شہری بھی شامل ہیں، جبکہ دیگر ممالک کے کارکن بھی اس امدادی مشن کا حصہ تھے۔
اسپین نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس کے 44 شہریوں کو ترکی کے راستے وطن واپس بھیجا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلوٹیلا واقعہ عالمی سطح پر اسرائیل کے اقدامات اور انسانی حقوق کے حوالے سے شدید بحث کا باعث بنا ہوا ہے۔
