روسی میڈیا کا امریکا ایران امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کا اعتراف، اسلام آباد کو امن کا ضامن قرار دے دیا

Pakistan shares comprehensive ceasefire framework with US and Iran, Reuters reports

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے بعد روسی ذرائع ابلاغ نے پاکستان کے سفارتی کردار کو نمایاں انداز میں اجاگر کرتے ہوئے اسے خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم شراکت دار قرار دیا ہے۔ روسی سرکاری اور نجی میڈیا اداروں نے اپنی رپورٹس اور تجزیوں میں اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کیا۔

روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی TASS نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کو امن کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی پیش رفت کو مستحکم بنانے اور معاہدے کے نفاذ میں معاونت کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ سفارتی سہولت کاری نے مذاکراتی ماحول کو سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

روسی وزیر خارجہ Sergey Lavrov نے بھی پاکستانی قیادت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہبازشریف اور دیگر پاکستانی رہنماؤں نے ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے مختلف فریقوں کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے اور کشیدگی میں کمی کے لیے مثبت سفارتی اقدامات کیے۔

روسی خبر رساں ادارے Sputnik نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا کہ اگرچہ امن معاہدے پر رسمی دستخط کسی اور مقام پر ہوں گے، تاہم پاکستان اس پورے عمل میں مرکزی ثالث کی حیثیت رکھتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مذاکراتی فریم ورک کی تیاری اور مختلف مراحل میں اسلام آباد نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے پاکستان کو اس سفارتی پیش رفت کا اہم کریڈٹ دیا جا رہا ہے۔

اسی طرح روسی بین الاقوامی نشریاتی ادارے RT نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی مخلصانہ اور متوازن سفارت کاری نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنانے میں مدد دی۔ رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کے نتیجے میں نہ صرف خطے میں استحکام کے امکانات بڑھے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت معاشی اور سیاسی اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

روسی میڈیا میں شائع ہونے والے مختلف تجزیوں میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا ایران کشیدگی کے خاتمے سے عالمی توانائی منڈیوں، علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان نے اس عمل کے ذریعے اپنی سفارتی ساکھ کو مزید مستحکم کیا ہے اور خود کو ایک ذمہ دار علاقائی قوت کے طور پر منوایا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے